سینیٹ الیکشن کے لیے ضابطہ اخلاق کیا ہو گا؟

اسلام آباد(پبلک نیوز) الیکشن کمیشن کی طرف سے سینیٹ انتخابات کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق سیاسی جماعتیں، امیدوار، ووٹرز اور الیکشن ایجنٹس کسی مخصوص رائے کی تشہیر نہیں کریں گے، سیاسی جماعتوں، امیدواران، ووٹرز اور الیکشن ایجنٹس کا کوئی عمل مذہبی تعصب اور ملکی نظریہ کے خلاف نہیں ہو گا جبکہ ملکی سالمیت اور پارلیمان کی بالادستی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی ایسا عمل قابل قبول نہیں ہو گا جس سے پارلیمان، عدالتوں اور فوج کا تقدس مجروح ہو۔

ضابطہ اخلاق سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور الیکشن ایجنٹس اور ووٹرز کے لیے جاری کیا گیا ہے۔

ضابطہ اخلاق میں مزید کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں، امیدوار، پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز کسی غیر قانونی سرگرمی اور کرپشن میں ملوث نہیں ہوں گے۔ تمام سیاسی جماعتیں، امیدوار، ووٹرز اور الیکشن ایجنٹس الیکشن کمیشن کی گاہے بگاہے دی جانے والی ہدایات پر عمل درآمد کریں گے۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق صدر مملکت اور تمام صوبوں کے گورنر کسی انتخابی مہم کا حصہ نہیں بنیں گے، ووٹرز پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون یا کوئی ایسا آلہ نہیں لے کر جائیں گے جس سے ووٹ کی تصویر بن سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں