نیٹو یوکرین میں فوجی مداخلت کا ارادہ کیوں نہیں رکھتا؟

نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) نے اپنی سرزمین کو ممکنہ روسی حملے سے بچانے کے لیے مشرقی یورپ میں سینکڑوں اضافی فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ دو دن پہلے، جرمنی نے نیٹو کے دیگر رکن ممالک میں شمولیت اختیار کی جو یوکرین کو روسی حملے کو پسپا کرنے میں مدد کے لیے ہتھیار بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں. یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کو مسلح کرنے کے لیے کروڑوں ڈالر کی امداد فراہم کرے گا۔ روس نے نیٹو کی طرف سے “جارحیت” کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی جوہری قوتوں کو “خصوصی الرٹ” پر رکھا ہوا ہے۔

نیٹو کے قیام کا مقصد کیا ہے؟

نیٹو ایک فوجی اتحاد ہے جسے 1949 میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور فرانس سمیت 12 ممالک نے قائم کیا تھا۔رکن ممالک کے درمیان مسلح حملے کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا معاہدہ ہے۔ نیٹو کا مقصد اصل میں یورپ میں جنگ کے بعد روسی پھیلاؤ کے خطرے کا مقابلہ کرنا تھا۔ 1955 میں، سوویت یونین نے کمیونسٹ مشرقی یورپی ممالک کا اپنا فوجی اتحاد بنا کر نیٹو کو جواب دیا، جسے وارسا معاہدہ کہا جاتا ہے۔ 1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد وارسا معاہدے کے متعدد ممالک نے اپنی پوزیشنیں تبدیل کیں اور نیٹو کے رکن بن گئے جس کے اب 30 ارکان ہیں۔

نیٹو یوکرین میں فوجی مداخلت کا ارادہ کیوں نہیں رکھتا؟

یوکرین نیٹو کا ملک نہیں ہے، اس لیے اتحاد کو اس کا دفاع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، یہ ایک “پارٹنر” ملک ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اور اتحاد کے درمیان یہ سمجھوتہ ہے کہ وہ مستقبل میں کسی وقت اس میں شامل ہو جائے گا۔ نیٹو کے کچھ ممالک طویل عرصے سے یوکرین کو ہتھیار بھیج رہے ہیں تاکہ اسے روس کے خلاف اپنے دفاع میں مدد مل سکے۔ امریکہ نے اسے 200 ملین ڈالر زمالیت کے ہتھیار بھیجے، جن میں جیولین اینٹی ٹینک میزائل اور اسٹنگر اینٹی ایئر کرافٹ میزائل شامل ہیں، اور نیٹو کے دیگر ممالک کو یوکرین کو امریکی ساختہ ہتھیار فراہم کرنے کی اجازت دی۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ مزید 350 ملین ڈالر کے ہتھیار بھیجے گا، بشمول طیارہ شکن نظام اور باڈی آرمر۔ دوسری جانب برطانیہ نے یوکرین کیلئے ٹینک شکن میزائل بھیجے، اور کہا کہ وہ مستقبل میں مزید ہتھیار بھیجے گا۔

A graphic showing Nato's expansion since 1997

جرمنی نے ٹینک شکن ہتھیاروں سمیت 500 اسٹنگر میزائل بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ نیدرلینڈ نے بھی 200 طیارہ شکن میزائل بھیجنے کا فیصلہ کیا، جب کہ بیلجیئم نے 2000 مشین گنیں اور ایندھن بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور سویڈن نے 5000 اینٹی ٹینک ہتھیار، ہیلمٹ اور حفاظتی سوٹ بھیجے ہیں۔ اس کے علاوہ پولینڈ نے گولہ بارود بھیجنا شروع کر دیا ہے جبکہ ایسٹونیا اور لٹویا نے ایندھن، ٹینک شکن ہتھیار، اور طبی سامان بھیجنا شروع کیا ہے۔جمہوریہ چیک نے کہا کہ وہ ہتھیار اور گولہ بارود بھیجے گا۔ سلوواکیہ نے کہا کہ وہ گولہ بارود اور ایندھن بھیجے گا۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے 450 ملین یورو تک خرچ کرے گی۔ یہ اپنی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ یورپی یونین نے کسی جنگی علاقے کو ہتھیار فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔ روس کے حملے سے پہلے کے مطالبات میں سے ایک یہ تھا کہ یوکرین کو کبھی بھی نیٹو میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے – جس پر اتحاد نے اتفاق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ روس کو خدشہ ہے کہ نیٹو مشرقی یورپ میں نئے اراکین کو اپنی طرف متوجہ کر کے اس کے اثر و رسوخ کے دائرے میں تجاوز کر رہا ہے، اور یہ کہ یوکرین کو اس اتحاد میں قبول کرنے سے نیٹو افواج اس کے دفاع میں آ جائیں گی۔

جہاں تک نیٹو کا تعلق ہے، اس کا کہنا ہے کہ یہ ایک خالصتاً دفاعی اتحاد ہے، اور اس کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “جنگ کی وحشیانہ کارروائی” قرار دیا۔

مشرقی یورپ میں نیٹو کتنا بڑا ہے؟

نیٹو افواج دراصل شمال میں بالٹک جمہوریہ سے لے کر جنوب میں رومانیہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کی افواج 2014 میں روس کے کریمیا کے الحاق کے بعد وہاں تعینات تھیں، تاکہ کسی بھی روسی حملے کی صورت میں یہاں ردعمل ظاہر کیا جاسکے۔ یوکرین پر روسی حملے نے مشرقی یورپ میں نیٹو کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ نیٹو اب روس اور یوکرین کی سرحد سے متصل مشرقی یورپی ممالک میں 40,000 فوجیوں پر مشتمل فورس کو تعینات کر دیا ہے. جن کے پاس ہائی الرٹ پر 100 جنگی طیارے ہیں، اور 120 بحری جہاز، جن میں طیارہ بردار بحری جہازوں کے تین گروپ شامل ہیں. اسٹولٹن برگ نے کہا کہ “ہم نیٹو کے ہر اتحادی اور ہر انچ کا دفاع کریں گے۔”

اس تناظر میں روسی صدر نے ‘جوہری ہتھیاروں’ کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے تاہم اس اعلان کا یہ مطلب نہیں کہ روس ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن امریکہ نے فوری طور پر اس کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “ناقابل قبول ” قرار دیا۔ امریکا نے یورپ میں مزید فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا، لیکن صدر جو بائیڈن نے کہا کہ یہ افواج خود یوکرین میں نہیں لڑیں گی۔ اضافی افواج چار کثیر القومی جنگی گروپوں میں شامل ہوں گی، جو نیٹو کے ایسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا اور پولینڈ میں ہیں.

نیٹو نے تصادم سے پہلے اپنے دفاع کا بندوبست کیسےکیا؟

تنازعات کے آغاز کے مہینوں میں، امریکہ نے تقریباً 3,000 اضافی فوجی پولینڈ اور رومانیہ بھیجے تاکہ نیٹو کی مشرقی سرحدوں کو تقویت دی جا سکے، اور مزید 8,500 فوجیوں کو اسٹینڈ بائی پر رکھا جائے۔برطانیہ نے مزید 350 فوجی پولینڈ بھیجے، اور ایسٹونیا میں اضافی 900 فوجیوں کے ذریعے اپنی طاقت کو دوگنا کر دیا۔بعدازاں برطانیہ نے رائل ایئر فورس کے مزید طیارے جنوبی یورپ بھیجے، اور دیگر نیٹو جنگی جہازوں کے ساتھ مشرقی بحیرہ روم میں گشت کے لیے رائل نیوی کے دو جنگی جہاز بھیجے۔

برطانیہ نے حکم دیا کہ یوکرین پر روسی حملے سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کی صورت میں مدد فراہم کرنے کے لیے 1,000 فوجیوں کو تیار رکھا جائے۔ڈنمارک، اسپین، فرانس اور ہالینڈ نے بھی لڑاکا طیارے اور جنگی جہاز مشرقی یورپ اور مشرقی بحیرہ روم میں بھیجے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں