سینیٹ الیکشن کا مکمل طریقہ کار

پاکستان میں سینیٹ الیکشن کا شور ہر طرف گونج رہا ہے۔ ایوان بالا کی 48 نشتوں پر انتخاب کے لیے ووٹنگ 3 مارچ کو ہو گی۔ سینیٹ انتخابات میں کامیابی کے لیے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور حزب اختلاف کی جماعتیں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔

سینیٹ انتخابات اس وقت پاکستان کے میڈٰیا پر موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں تاہم ضروری ہے کہ سینیٹ الیکشن کے طریقہ کار اور سیٹوں پر کامیابی کے پیچیدہ عمل کو سمجھا جائے۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا کو سینیٹ کہا جاتا ہے جس کے قانون ساز ارکان کی تعداد 104 ہوتی ہے۔ سینیٹ کے ارکان چھ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ سینیٹ ارکان ایک بار الیکشن کے نتیجے میں منتخب نہیں ہوتے، آدھے ارکان ایک دفعہ منتخب ہوتے ہیں جبکہ بقیہ سینیٹرز کو تین سال بعد منتخب کیا جاتا ہے۔

2018ء میں 52 سینیٹرز نے اپنی مدت مکمل کی اتنے ہی نئے ارکان منتخب ہوئے جبکہ 3 مارچ کو ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں 48 سینیٹرز منتخب ہونگے کیونکہ سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے باعث خالی ہونے والی چار فاٹا کی نشستوں کے لیے انتخابات نہیں ہو رہے۔

سینیٹ الیکشن کے لیے رکن قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی ووٹنگ کے عمل کا حصہ بنتے ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات آئین کے آرٹیکل 59 کے مطابق منعقد کیے جاتے ہیں سینیٹ انتخابات میں صوبوں کو یکساں تناسب کے ساتھ نمائندگی دی جاتی ہے۔ سینیٹر منتخب ہونے کے لیے عمر کی حد کم ازکم 30 سال مقرر ہے اور امیدوار کا اس علاقے کا ووٹر ہونا ضروری ہے۔

سینیٹ کے قیام کا مقصد
سینیٹ کے قیام کا بنیادی مقصد وفاق کی تمام اکائیوں کو ایک ہی تناسب سے نمائندگی دینا تھا تاکہ قوم میں ہم آہنگی، برابری اور احساس تحفظ کو فروغ دیا جاسکے یہی وجہ ہے کہ پارلیمان کے ایوان بالا نے گزشتہ سالوں میں وفاق کی جزیات کو یکجا رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سینیٹرز کے اختیارات
سینیٹرز ارکان اسمبلی کی طرح قانون سازی کرتے ہیں لیکن کچھ دیگر اختیارات انہیں قومی اسمبلی کے نمائندگان سے ممتاز بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انتخاب کے لیے مختلف طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے۔
سینیٹرز کو مندرجہ ذیل کردار تفویض کیے جاتے ہیں
• ریاست کے بیانیے کی نمائندگی
• حکومتی امور کی جانچ پڑتال
• قانون سازی پر بحث
• نئی قانون سازی
• قائمہ کمیٹیوں میں کردار اور عوامی ترجیحات کے امور کا جائزہ

انتخاب کا طریقہ
سینیٹ میں انتخاب سنگل ٹرانسفرایبل ووٹ (واحد قابل انتقال ووٹ) کے ذریعہ ہوتے ہیں۔ یہ طریقہ کار متناسب نمائندگی ہی کا حصہ ہوتا ہے۔ اس میں تمام کے تمام ووٹ امیدواروں کو ملتے ہیں، جماعتوں کو نہیں۔ ووٹ ٹرانسفرایبل ہوتا ہے، ووٹر اپنی پہلی اور دوسری ترجیح کے طور پر اپنے امیدواروں کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس طریقہ کار میں امیدوار کو ووٹوں کی ایک خاص شرح حاصل کرنا ہوتی ہے۔ اگر ووٹر کا پہلا ترجیحی امیدوار اس شرح کے مطابق ووٹ حاصل کر لیتا ہے تو پھر ووٹر کا ووٹ خودبخود دوسرے ترجیحی امیدوار کے حق میں شمار ہو جاتا ہے۔ امیدوار تیسرے ترجیحی امیدوار کا تعین بھی کرتا ہے۔ اس نظام کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ووٹرکا ووٹ ضائع نہیں ہوتا۔

سینیٹ الیکشن کے بعد متوقع پارٹی پوزیشن کیا ہو گی؟

پاکستان تحریک انصاف
تاحال حکومتی جماعت کے 14 سینیٹرز موجود ہیں جن میں سے 7 کی مدت مکمل ہو رہی ہے۔ سینیٹ الیکشن کے بعد تحریک انصاف 21 نشتیں جیتنے کی امید لگائے بیٹھی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی
پیپلز پارٹی کے اکیس میں سے 8 سینیٹرز کی مدت مکمل ہو گی جبکہ 13 سینیٹرز باقی بچیں گے، اگر پیپلزپارٹی 6 نشتیں جیتتی ہے تو یہ تعداد 19 ہو جائے گی۔

پاکستان مسلم لیگ ن
مسلم لیگ ن کے سینیٹ میں 29 ارکان موجود ہیں، 21 کی مدت پوری ہو رہی ہے۔ ن لیگ کے 5 نئے سینیٹرز منتخب ہونے کی امید ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی
بلوچستان عوامی پارٹی کے 10 سینیٹرز ہیں جبکہ 3 مارچ کو تین ارکان اپنی مدت مکمل کر رہے ہیں، جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی الیکشنز میں 6 ارکان منتخب کرانے کے لیے پر امید ہے۔ جس کے بعد ان کے ارکان کی تعداد اضافے کے بعد 13 ہو جائے گی۔ متوقع طور پر سینیٹ الیکشن میں ایم کیو ایم اور مولانا فضل الرحمٰن کی پارٹی دو، دو سیٹیں جیت لے گی۔

واضح رہے کہ سینیٹ میں نشستوں کا حتمی تناسب انتخابات کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔ سنگل ٹرانسفرایبل ووٹ کے نظام کی وجہ سے ایوان بالا کے انتخابات میں منتخب ہونے والے سینیٹرز کی تعداد عموماً پارٹیوں کے اسمبلیوں میں موجود ارکن کی تعداد سے مختلف ہوتی ہے اور کبھی کبھی کم نمائندگان والی سیاسی جماعت بھی زیادہ ارکان منتخب کروا لیتی ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹ الیکشنز کے لیے پنجاب کی 11 سیٹوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔ 11 نشستوں میں سے 5 پر پی ٹی آئی، 5 پر ن لیگ جبکہ ایک پر ق لیگ کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں