حجاب معاملہ: مسلمان طالبات کی تمام درخواستیں خارج

بنگلورو: (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست کرناٹک کی ہائیکورٹ نے حجاب معاملے پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے دائر تمام درخواستوں کو خارج کر دیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حجاب مذہب اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔

مسلم طالبات کی درخواست کی سماعت کے لیے کرناٹک ہائیکورٹ کے چیف جسٹس رتوراج اوستھی، جسٹس کرشنا ایس ڈکشٹ اور جسٹس جے ایم قاضی پر مشتمل بنچ تشکیل دیا گیا تھا۔ طالبات نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں کلاس میں سکول یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ ان کے مذہبی عقیدے کا حصہ ہے۔

چیف جسٹس رتوراج اوستھی نے کہا کہ پورے معاملے کا ایک جامع نقطہ نظر رکھتے ہوئے، ہم نے کچھ سوالات تیار کئے ہیں اور اس کے مطابق جواب دیا ہے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ کیا حجاب پہننا اسلام کا لازمی حصہ ہے جو آرٹیکل 25 کے تحت محفوظ ہے۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا سکول یونیفارم کی تعلیم حقوق کی خلاف ورزی ہے؟ تیسرا سوال یہ تھا کہ کیا 5 فروری کا حکومتی حکم نااہلی اور واضح طور پر من مانی ہونے کے علاوہ آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی کرتا ہے؟

خیال رہے کہ 25 فروری 2022 کو کرناٹک ہائیکورٹ میں اس کیس سماعت مکمل ہوئی تھی جس کے بعد اس اہم معاملے کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔ کرناٹک ہائیکورٹ کی سنگل بنچ نے 8 فروری 2022 کو حجاب تنازعہ پر پہلی سماعت کی تھی۔

پھر 9 فروری 2022 کو سنگل بنچ نے اس معاملے کو لارجر بنچ کو بھیج دیا تھا۔ اس کے بعد 10 فروری 2022 کو 3 رکنی بینچ نے سماعت شروع کی اور اگلے حکم تک طلبہ کے مذہبی لباس پر پابندی لگا دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں