سعودی عرب کے شہر جدہ میں میزائل اور ڈرون حملہ

جدہ: (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے شہر جدہ پر حوثیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے کئے گئے ہیں۔ حوثیوں نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔

جمعے کو شام پانچ بج کر پانچ منٹ پر جدہ شہر میں آرامکو پٹرولیم مصنوعات کے ڈسٹری بیوشن سٹیشن پر حملہ کیا گیا۔ حملے سے دو ٹینکوں میں آگ لگ گئی جس پر قابو پا لیا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حوثی ملیشیا سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ان کا سارا زور تیل کی رسد اور عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہونا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے بھی حوثیوں نے جدہ میں آرامکو کے تحت پٹرولیم مصنوعات کے ایک ڈسٹری بیوشن سٹیشن پرحملہ کیا تھا۔ قبل ازیں عرب اتحاد نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے جمعے کو حوثیوں کے 16 حملے ناکام بنائے ہیں، ڈرونز اور بیسلٹک میزائل تباہ کردیے گئے۔

یمنی حوثی ملیشیا کی جانب سے چلائے جانے والے سٹلائٹ نیوز چینل ال مسیرہ کے مطابق ان حملوں کے حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ حوثیوں کی جانب سے فوری طور پر جدہ میں لگنے والی آگ کی ذمہ داری قبول کر لی گئی تھی۔

سعودی عرب اتحاد کے مطابق سعودی عرب کی ایئر ڈیفنس فورسز نے حوثیوں کے سات ڈرونز اور ایک میزائل مار گرایا ہے جو مملکت کے جنوبی علاقے کو نشانہ بنانے والے تھے۔ حوثیوں کی جانب سے ایسے حملوں میں جان بوجھ کر شہری علاقوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ حوثیوں کے مسلسل حملوں سے علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی کو خطرہ ہے۔ ہم یمن کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے لیے خلیجی اور بین الاقوامی برادری کی حمایت کرتے ہیں۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، بحرین اور مصر سمیت دیگر ممالک کی جانب سے جمعے کی شام کو جدہ اور دیگر شہروں پر حوثیوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ’ایران نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گروپ کو اسلحہ دے کر حملہ کرایا۔‘
امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون کا کہنا تھا کہ ’جدہ میں آرامکو کے ذخیرے اور جازان اور دہران میں حوثیوں کے بلااشتعال حملے دہشت گردی ہیں، جن کا مقصد یمن کے لوگوں کی مشکلات بڑھانا ہے۔‘انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گروپ کو ہتھیار مہیا کر رہا ہے۔

سلیون کا مزید کہنا تھا کہ ’آج کے حملے اسی طرح ایران کی مدد سے ممکن ہوئے جیسے مارچ 19 اور 20 کو واٹر پلانٹس اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملے تھے۔ ایران کی جانب سے ایسی کارروائیاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہیں، جن میں یمن ہتھیار بھجوانے کی ممانعت کی گئی ہے۔‘

امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے حملے بعد کہا کہ امریکہ دفاع کی مضبوطی کے لیے مملکت کے ساتھ کام کرتا رہے گا، تاہم تصادم کے خاتمے، زندگی کو بہتر بنانے اور یمنی عوام کے بہتر مستقبل کے لیے بھی مل کر کوششیں کی جاری رکھی جائیں گی۔‘

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ ایک ایسے وقت میں جب مقدس مہینے رمضان کی آمد آمد ہے حوثیوں نے اپنا تباہ کن رویہ جاری رکھا ہوا ہے اور عام شہریوں پر بلادریغ حملے کر رہے ہیں۔‘ حملوں کے بعد سعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ وہ حوثیوں کے جارحیت کے جواب میں دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں نے ہمارے شہریوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ بین الاقوامی براداری کو اس جارحیت کے خلاف ردعمل دینا چاہیے۔‘

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے بھی تیل کے ذخیرے پر حملے کی مذمت کی گئی ہے انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مصر دشمنوں کے مقابلے میں مملکت کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن، جنہوں نے پچھلے ہفتے ہی مملکت کا دورہ کیا تھا، نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’میں سعودی عرب کے اہم مقامات پر حوثیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ ایسے حملوں نے شہریوں کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔‘

متحدہ عرب امارات، جس کو خود ہی حوثیوں کے حملوں کا سامنا رہا، کی جانب سے بھی سعودی عرب پر تازہ حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ یو اے ای کی جانب سے عالمی برادری کو کہا گیا ہے کہ وہ بار بار ہونے والی جارحیت کے سامنے مل کر کھڑی ہو۔

فرانس نے بھی حملوں کو شدید الفاظ میں قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ’ایسے عمل جن سے سعودی عرب اور خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں، ان کو روکا جانا چاہیے۔‘

اسی طرح بحرین نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ان تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو ایسے حملوں کے خلاف اپنی سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔‘

سیکریٹری جنرل عرب لیگ احمد عبدالغیت نے حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سے خطے کے امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے ہیں، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کی دہشت گردی کے خلاف سخت سٹینڈ لے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں