ٹانگ گنوانے کے بعد مصری تیراک نے دونئے ریکارڈ قائم کردیئے

لاہور (ویب ڈیسک ) 31 سالہ مصری نوجوان عمر حجازی جو کہ ایک ٹانگ سے محروم ہیں اس کے باوجود انہوں نے دو نئے ریکارڈ اپنے نام کر لیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مصر کے بہادر تیراک نے نصف ٹانگ سے محروم ہونے کے بعد بھی اپنی کوشش برقرار رکھی اور اب تک وہ گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ کے دو اعزاز اپنے نام بھی کرچکے ہیں۔

عمرحجاز نے سب سے پہلے ’ ایک سانس میں پانی کے اندر طویل ترین فاصلہ طے کرنے‘ اور ’فنز کے ساتھ ایک ہی سانس میں طویل ترین فاصلہ طے کرنے ‘ کا اعزاز بھی اپنے نام کیا ہے۔ ان دونوں ریکارڈ کی تصدیق گنیز بک اتنظامیہ نے بھی کی ہے۔

عمر نے ایک سانس بھر کر 185 فٹ کا لمبا سفر طے کیا پھر پیر پر پنکھ لگا کر تیرنے کی کوشش کی اور 251 فٹ کا فاصلہ طے کر کے نیا ریکارڈ بنایا۔
اپنی کامیابی پر وہ بہت خوش ہیں اور انسٹاگرام پر لکھا کہ ان کے سفر کو کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ انہیں گھروالوں ، دوستوِں ، اور اپنے معاون کوچ کی طرف سے بہت مدد، تائید اور محبت حاصل ہے۔

2015 میں وہ بینک میں کام کرتے تھے، ان دن ان کی موٹر سائکل کو حادثہ ہوا اور گاڑی ان کے پاؤں پر چڑھ گئی جس سے وہ اپنی ٹانگ سے محروم ہوگئے۔ ٹانگ کٹنے کے بعد ان کی زندگی بہت مشکل ہوگئی تھی جس میں ان کے معمولاتِ زندگی اور غسل خانے تک جانا بھی اسی میں شامل تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں