پولیس اہلکاروں کا گولڈن مین پر تشدد

لاہور (ویب ڈیسک ) لوگوں کے چہروں پر ہنسی بکھیرنے والا گولڈن مین ناکردہ جرم کی بھینٹ چڑھ گیا. اسلام آباد کے گولڈن مین کو پولیس اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنادیا. اس واقعے کی اطلاع خود گولڈن مین نے دی. اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس کا کہنا تھا کہ ٹیلنٹ کی پاکستان میں کوئی قدر نہیں، لوگ اسے گالیاں دیتے ہیں ، میں اس پروفیشن کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کے جا رہا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق گولڈن مین کو اسلام آباد میں غنڈوں کے ایک گروپ نے سڑک پر مار پیٹ کی اور بعد میں جب وہ شکایت درج کرانے تھانے گیا تو پولیس نے اس پر تشدد کیا۔

گولڈن مین کو حال ہی میں ”سٹیل مین” کی طرف سے دھمکیاں بھی دی گئی تھیں، جو کہ اسلام آباد کے گولڈن مین کی طرح کام کرنے والا ہی ایک اور شخص ہے۔

خیال رہے کہ سابق ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اسلام آباد محمد حمزہ شفقات کی جانب سے محمد احسن کو اسلام آباد کے گولڈن مین کے اس کام پر اجازت نامہ اور تعریفی خط دیا گیا تھا۔

دوسری طرف اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ گولڈن مین کی شکایت پر آئی جی اسلام آباد نے فوری نوٹس لیا ۔

ایس ڈی پی او کوہسار کو شکایت کنندہ کو دفتر بلا کر انکوائری کرنے کے احکامات بھی جاری کئے کہ جس پر انہوں نے گولڈن مین کی شکایت کی داد رسی کی اور ہر جائز کام میں پولیس کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

ایک اور بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ گولڈن مین کی شکایت پر دو پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں گولڈن مین اور سلور مین کے باہمی تنازعے پر کاروائی عمل میں لائی گئی ہے اور سدباب کیلئے ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں