”زیادہ چالاک نہ ہونے کی وجہ سے اپنا نقطہ سمجھا نہیں سکا“

اسلام آباد(پبلک نیوز) سپریم کورٹ میں نظر ثانی کیس کی سماعت کے دوران فائز عیسیٰ دوران سماعت جذباتی ہوگئے، کہا زیادہ چالاک نہ ہونے کی وجہ سے اپنا نقطہ سمجھا نہیں سکا، سپریم کورٹ کے جج اور اہلخانہ کے خلاف سرکاری پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، مسئلہ دس سال لاکھ تنخواہ کا نہیں ملک کے مستقبل کا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی لارجر بینچ نے کی۔ نظر ثانی درخواستوں کی لائیو کوریج کرنے سے متعلق جسٹس فائز عیسی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کو دلائل دینے کی اجازت دے دی۔

کیس سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا منیر اے ملک کی بیماری کے باعث عدم دستیابی کی درخواست ملی ہے، وکیل، سائل اور عدالت کے درمیان رابطہ کار ہوتا ہے، بعض اوقات ذاتی معاملات میں اچھا رویہ رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

دوران سماعت بینچ کے سربراہ عمر عطا بندیال نے جسٹس فائز عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اعتراضات اور سوالات پر توقع ہے آپ تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔ جواباً جسٹس فائز عیسی کا کہنا تھا جہاں آپ کو محسوس ہو حد پار کر رہا ہوں مجھے روکا جائے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ججز کی ایک ڈیوٹی صبر اور تحمل کرنا بھی ہے، لوگ خلاف ہیں تو آپ کے حامی بھی ہیں۔

اپنے دلائل میں جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ بہتر ہو گا تمام سوالات آخر میں پوچھے جائیں، 23 مئی 2019ء کو ریفرنس چیف جسٹس کو بھیجوایا گیا، 29 مئی کو ریفرنس کی خبر میڈیا پر آئی، مجھے اور میرے اہلخانہ کو بدنام کیا گیا، پوری دنیا میں میرے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا، کسی کے خلاف توہین عدالت کے کی کارروائی نہیں چاہ رہا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ کی درخواست میں فل کورٹ پر کوئی اعتراض نہیں ہے، آپ کا اور میرا تعلق ایک آئینی ادارے سے ہے، ہمیں بہت سی چیزوں پر رائے دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس فائز عیسیٰ دوران سماعت جذباتی ہو ہوگئے اور ان کی آواز بھر آئی، جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا زیادہ چالاک نہ ہونے کی وجہ سے اپنا نقطہ سمجھا نہیں سکا،2 سال سے سپریم کورٹ کے جج اور اہلخانہ کے خلاف سرکاری پراپیگنڈا کیا گیا، مسئلہ دس سال لاکھ تنخواہ کا نہیں ملک کے مستقبل کا ہے، میری جگہ آپ کے اہلیہ اور بچے ہوتے تو آپ لوگ کیا کرتے؟

انہوں نے کہا پی ٹی وی پارلیمنٹ کی کارروائی براہ راست دکھاتا ہے جبکہ آئین میں پارلیمنٹ کی کارروائی براہ راست دکھانے کا ذکر نہیں، براہ راست کوریج میں ایڈیٹنگ کی گنجائش نہیں ہوتی، کئی صحافیوں کو وکلاء سے زیادہ قانون کا علم ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ٹی وی پر دو لوگوں کو بیٹھا کر بحث کرائی جاتی ہے، فیصلہ چاہے میرے خلاف آئے لیکن ٹی وی پر براہ راست آنا چاہیے، عدالت کو دیکھنا ہے ججز کو کیسا ماحول فراہم کیا جا رہا ہے، میرے نام پر داغ لگا ہوا ہے جسے صاف کرنے کا موقع ملنا چاہیے، ہٹلر کو بھی معلوم تھا ٹینک سے زیادہ میڈیا کا استعمال کرنا ہے، ٹیکنالوجی موجود ہے تو استعمال کیوں نہیں کی جا رہی؟ کل کی خبر دی گئی براہ راست کوریج کی درخواست خارج ہو گئی۔

جسٹس عمر عطابندیال نے ردعمل میں کہا جو اخبار میں نے پڑھا اس میں ایسی خبر نہیں تھی، کسی ایک اخبار نے شاید غلط خبر لگائی ہو، آپ کی بات سننے والے تمام افراد جانبدار نہیں ہو سکتے، براہ راست کوریج میں عملی طور پر بھی بہت مشکلات ہیں، یہ صرف عدالتی معاملہ نہیں سپریم کورٹ کا پالیسی اور انتظامی مسئلہ بھی ہے۔

دوران سماعت جسٹس فائز عیسیٰ نے انگلش گانے Not in love open to persuasion کا حوالہ بھی دیا، انہوں نے عدالت کو بتایا کل صحافیوں کی جانب سے کہا گیا لائیو کوریج میں معاونت کر سکتے ہیں۔

جسٹس عمر عطا نے کہا فل کورٹ میٹنگ اور عدالت جائزہ لے گی براہ راست کوریج ہوسکتی یا نہیں، عدالت براہ راست کوریج پر متفق ہوئی تو ریاستی مشینری استعمال ہو گی، کسی نجی کیمرے کو عدالت میں آنے کی اجازت نہیں ہو گی، عدالت میں صحافی ہونے چاہیےکیپٹلسٹ نہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ معاملے پر وفاقی کی جانب سے کون نمائندگی کرے گا؟ مجھے صرف نوٹس لینے کی ہدایات ملی ہیں جس پر جسٹس منصور علی نے استفسار کیا کہ حیرت ہے اب تک تعین نہیں ہو سکا وفاق کا وکیل کون ہو گا۔ ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کیس مقرر ہوا تو وزیرقانون اور اٹارنی جنرل موجود نہیں تھے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں