سعودیہ سے درخواست کی ہے اسٹیٹ بینک میں رکھے پیسے رواں سال واپس نہ لیں

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے پیسے رواں سال واپس نہ لیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ دورہ سعودی عرب میں بہت سی مثبت چیزیں ہوئیں جو وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ ہماری درخواست کا انہوں نے موافق جواب دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ کے سب سے تیز ترین بجٹ خسارے تحریک انصاف کے دور میں رہے ، عمران خان کی حکومت نے کرپشن کے بھی ریکارڈ قائم کیے ہیں، عمران خان معیشت میں بارودی سرنگیں بچھاکر گئے ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آج ملک میں چینی 2019 کے بعد سستی ترین ہے، یوٹیلیٹی اسٹور میں چینی کی قیمت 70 روپے کر دی، 20 کلو آٹے کا تھیلا 1200 سے 800 کردیا، یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی پر 200 روپے کلو کی رعایت دے دی گئی ہے، قیمتوں میں کمی شہباز شریف نے کی ہے ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے 20000 ارب روپے قرض لیا جو بجٹ کا 80 فیصد ہے، ایک طرف مغربی ممالک پر سازش کا الزام لگایا جارہا ہے دوسری طرف ان کے اپنے لوگ باہر جارہے ہیں، عمران خان کو جواب دینا ہوگا کہ شہزاد اکبر نے شوگر ملز کی ٹیکس چوری پر چشم پوشی کیوں کی؟کسی نے 37 طلبہ کے پڑھنے کی جگہ کیلئے ایک ارب روپے کیوں دیے ؟

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی ٹیم نے آئی ایم ایف کے سامنے کچھ اور یہاں کوئی اور بات کی، ہم چند دنوں میں بجلی لوڈشیڈنگ کی صورتحال بہتر کردی، پی ٹی آئی نے چینی کمپنیوں کے 290 ارب روک لیے۔

سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ ڈیزل پر فی لیٹر 70 روپے نقصان کررہے ہيں، آئی ایم ایف سے جو پی ٹی آئی نے وعدے کیے اس حساب سے ڈیزل آج 150 روپے مہنگا ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومت نے ڈالر قابو میں کرنے کیلئے مداخلت کی تھی، شرح سود، مارکیٹ مداخلت ڈالر کنٹرول کرنے کے طریقے موجود رہیں گے، سستا ہاؤسنگ قرضہ اور اس طرح کی اسکیمز ختم کرنے کا ارادہ نہیں۔

مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ دیکھتا ہوں عمران خان کیسے دو دن بھی دھرنا کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں