انسان کو لگائے گئے سور کے دل میں خطرناک وائرس تھا:تحقیق

میری لینڈ: (ویب ڈیسک) امریکی شہری ڈیوڈ بینٹ دنیا کے وہ پہلے انسان تھے جن میں سور کے دل کی پیوند کاری کی گئی تھی۔ اب ایک نئی تحقیق میں پتا چلا ہے کہ سور کے دل میں خطرناک وائرس موجود تھا۔ یہ سرجری میری لینڈ سکول آف میڈیسن میں کی گئی تھی۔

ڈاکٹروں کا دعویٰ تھا کہ ڈیوڈ بینٹ کی پیوند کاری کیلئے جس سور کا دل حاصل کیا گیا تھا، وہ صحت مند تھا اور کسی بھی قسم کے انفیکشن سے پاک ہونے کی تصدیق کے لئے اس کے تمام ضروری ٹیسٹ کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ اس کی پرورش جانوروں کو انفیکشن سے محفوظ رکھنے کے ایک مرکز میں کی گئی تھی۔

تاہم حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ چیز سامنے آئی ہے کہ سور دل کے میں ایک وائرس موجود تھا۔ سائنسدانوں کو زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ جانوروں کے اعضا کی انسانوں میں پیوند کاری سے کہیں انسان نئی قسم کی بیماریوں تو مبتلا نہیں ہو جائیں گے۔

57 سالہ ڈیوڈ بینٹ دل لگائے جانے کے بعد صرف دو ماہ ہی زندہ رہ سکا تھا۔ طبی ماہرین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دنیا کے اس پہلے انسان کی موت کی وجہ کیا تھی جسے سور کا دل لگایا گیا تھا اور اسے طبی تاریخ کا اہم کارنامہ قرار دیا گیا تھا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس چیز کے تعین کے لیے کہ آیا سور کے دل میں موجود وائرس ہی انفکشن کا سبب بنا تھا، مزید اور پیچیدہ نوعیت کے ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر عشروں سے جانوروں کے اعضا کی پیوند کاری کے ذریعے انسانی زندگیاں بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک انہیں کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

بینٹ جو اپنی بیماری کی وجہ سے موت کے منہ میں جا رہے تھے اور انہیں انسانی دل لگانا ممکن نہیں رہا تھا، آخری کوشش کے طور پر انہیں ایک ایسے سور کا دل لگایا گیا جس میں جینیاتی طور پر تبدیلی کی گئی تھی تاکہ نئے دل کے خلاف انسان کے قدرتی مدافعتی ردعمل کے خطرے کو ممکنہ حد تک کم کیا جا سکے۔

وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکا کے طبی مراکز میں ڈاکٹر عطیہ کئے گئے انسانی جسموں میں جانوروں کے اعضا کی پیوند کاری پر تجربات جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس بارے میں بے چین ہیں کہ انہیں زندہ انسانوں پر تجربات کا موقع کب ملے گا؟۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ سور کے دل میں وائرس کی موجودگی کا حالیہ انکشاف اس پیش رفت کو کس طرح متاثر کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں