عمر سرفراز چیمہ نے نوٹی فیکیشن غیر آئینی قرار دیدیا

برطرف گورنر عمر سرفراز چیمہ نے عہدے سے ہٹائے جانے کا نوٹی فیکیشن غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس سے قانونی طور پر نمٹنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں عمر سرفراز چیمہ نے لکھا کہ صدر پاکستان کے غیر معمولی حالات کے پیش نظر سمری مسترد کرنے کے باوجود کیبینٹ ڈویثرن نے غیر آئینی نوٹی فیکیشن جاری کیا جسے میں مسترد کرتا ہوں۔ آئینی ماہرین سے مشاورت جاری ہے، انشاء اللہ جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ نوٹی فیکیشن سینئر جوائنٹ سیکرٹری کیبنٹ تیمور تجمل کے دستخط سے جاری کیا گیا ہے۔

نوٹی فیکیشن کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی قائم مقام گورنر کے فرائض انجام دیں گے۔ گورنر پنجاب کو ہٹائے جانے کے بعد ان سے تمام سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گورنر پنجاب کو ہٹانے کا وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کردی تھی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ گورنر پنجاب کو صدر پاکستان کی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکتا، آئین کے آرٹیکل 101 کی شق 3 کے مطابق “گورنر صدر مملکت کی رضا مندی تک عہدے پر قائم رہے گا”۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ موجودہ گورنر پر نہ تو بدانتظامی کا کوئی الزام ہے اور نہ ہی کسی عدالت کی طرف سے سزا ہوئی، موجودہ گورنر پنجاب نے نہ ہی آئین کے خلاف کوئی کام کیا، ہٹایا نہیں جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت کی گورنر پنجاب کو ہٹانے کی وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے صدر مملکت کا فرض ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کرے، گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات، وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفیٰ اور وفاداریوں کی تبدیلی کے حوالے سے رپورٹ ارسال کی تھی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ گورنر کو ہٹانا غیر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا، ضروری ہے کہ موجودہ گورنر ایک صحت مند اور صاف جمہوری نظام کی حوصلہ افزائی اور فروغ کے لیے عہدے پر قائم رہیں، آئین کا آرٹیکل 63 اے ممبران اسمبلی کو خریدنے جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے،اس مشکل وقت میں دستور پاکستان کے اُصولوں پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہوں، گورنر پنجاب کو ہٹانے کے وزیر اعظم کی ایڈوائس کو مسترد کرتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں