منی لانڈرنگ کیس: وزیراعظم پر فردجرم عائد کرنیکا فیصلہ

لاہور کی ایک خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیر عظم شہباز شریف سمیت تمام ملزموں پر 14 مئی کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

معزز جج اعجاز حسن اعوان نے حکم دیا ہے کہ منی لانڈنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت تمام ملزمان عدالت میں 14 مئی کو حاضری یقینی بنائیں اور اسی دن ان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

عدالت نے 27 اپریل کی سماعت کے حکم نامے میں واضح کیا ہے کہ عدالت نے شہباز شریف کی درخواست پر حاضری سے استثنیٰ دیا تھا جس کے بعد ان کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دینے کے لیے وقت مانگا تھا۔

عدالت کے مطابق کیس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ عدالت کے حکم کے مطابق 14 مئی کے دن سماعت پر تمام ملزمان حاضری کو یقینی بنائیں اور وکیل دفاع بھی اپنے دلائل مکمل کریں۔؎

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کیخلاف منی لانڈرنگ کیس، ایف آئی اے کا اہم فیصلہ

دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف ودیگر کیخلاف منی لانڈرنگ کیس کا ٹرائل نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

عدالت نے ایف آئی اے پراسکیوشن ٹیم کی درخواست کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا ہے۔ سپیشل جج سنٹرل اعجاز حسن اعوان نے ایف آئی اے پراسکیوٹر کی درخواست پر تحریری حکم جاری کر دیا ہے۔

تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس کی 11 اپریل کو سماعت کے بعد سپیشل پراسکیوٹر ایف آئی اے نے ٹرائل میں عدم دلچسپی کی درخواست دائر کی۔

سپیشل پراسکیوٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے تفتیشی افسر کے ذریعے وزیراعظم شہباز شریف کیخلاف پیش نہ ہونے کا کہا۔

ایف آئی اے کے سپیشل پراسکیوٹر سکندر ذوالقرنین سلیم نے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بننے کے باعث پراسکیوشن کو پیش ہونے سے روکا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے متعلقہ حکام نے شہباز شریف، حمزہ شہباز سمیت دیگر کیخلاف ٹرائل میں عدم دلچسپی ظاہر کی۔ عدالت کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سپیشل پراسکیوٹر ایف آئی اے کی عدم پیشی کی درخواست کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں