شہباز گل اہلیہ کے دفاع میں سامنے آ‌گئے

سابق وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گِل اپنی اہلیہ پر لگنے والے الزمات کے دفاع میں سامنے آ‌گئے.

نجی ٹی وی پر چلنے والی خبر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ شہباز گل کی اہلیہ اعزا اسد رسول کامسیٹس یونیورسٹی کی ایک کروڑ 86 لاکھ روپے کی نادہندہ نکلیں ہیں. خبر میں کہا گیا کہ شہباز گل کی اہلیہ سرکاری خرچ پر 2011 میں پی ایچ ڈی کرنے امریکا گئیں لیکن 11سال بعد بھی واپس نا آئیں جس کے بعد کامسیٹس یونیورسٹی نے شہباز گل کی اہلیہ کو شو کاز نوٹس بھیج دیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ردعمل میں ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ یہ ماسٹرز لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی کا پروگرام ہے جو ابھی جاری ہے، یونیورسٹی سے ایک emailپر کنفرم کیا جا سکتا ہے۔یہ جھوٹ ہے کہ واپس آنے انکار کیا گیا انشاللہ اگلے سا PhD ختم ہو گی تو فورا واپسی ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف مہم چل رہی جس میں یہ خبر بھی اسی کا حصہ اور مجھے پتہ ہے یہ کون کر رہا ہے.

ایک اور ٹوئٹ میں انکا کہنا تھا کہ آج جیو ٹی وی نے ایک اور جھوٹی خبر میری فیملی کے بارے دی۔ سٹودنٹ کو میرٹ بیس سکالرشپ ہماری حکومت سے پہلے ملا ، ابھی بھی Phd کی تعلیم جاری ہے جو کہ یونیورسٹی سے کنفرم کی جا سکتی ہے۔ کامسیٹس کے پاس تمام انفارمیشن موجود ہے، اگلے سال PhD ختم ہوتے ہی پاکستان واپسی ہو جائے گی.

واضح رہے کہ خبر میں کہا گیا کہ اعزا اسد رسول نے مارچ 2011 میں پی ایچ ڈی کے لیے سرکاری فنڈز سےاسکالرشپ لی، کامسیٹس یونیورسٹی نے سرکاری فنڈ سے 99 ہزار ڈالرز اور 85 ہزار روپے کی رقم فراہم کی، مسز شہبازگل نےکامسیٹس یونیورسٹی سے معاہدے کے تحت 2016 میں پی ایچ ڈی مکمل کرنا تھی اور معاہدے کے تحت ڈگری کے بعد اعزا اسد رسول نے واپس آ کر یونیورسٹی میں پڑھانا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں