یو اے ای حکومت کا بے روزگاری الاؤنس دینے کا فیصلہ

دبئی : متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا کہنا ہے کہ محدود مدت کے لیے بے روزگاروں کو الاؤنس دیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس ہوا جس میں یہ فیصلہ لیا گیا۔یو اے ای کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے کہا ہے کہ امارات نے بے روزگاری الاؤنس دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ محدود مدت کیلئے بے روزگاروں کو الاؤنس دیا جائے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت نےعید الفطر کے بعد کام شروع کردیا ہے، قصر الوطن میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت کے دوران پہلا فیصلہ آباد کاری کی نئی پالیسی کے بارے میں کیا گیا ہے۔13 ہزار اماراتی خاندانوں کے لیے 115 ارب درہم کے رہائشی قرضوں کا نیا پروگرام منظور کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں مقامی شہریوں کی تعداد بڑھانے اور ان کی پوزیشن مضبوط کرنے کا نیا قانون بھی منظور کیا گیا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں اور کمپنیوں میں مقامی ہنرمندوں کی شرح دو فیصد بڑھا دی گئی ہے۔ ایسے ہر نجی ادارے میں جس کے ملازمین کی تعداد 50 سے زیادہ ہوگی ان میں دو فیصد اماراتی شہریوں کا تقرر لازمی ہوگا۔ 2026 تک یہ شرح بڑھا کر 10 فیصد تک پہنچا دی جائے گی۔

اس کے علاوہ شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا ٹویٹ میں کہنا تھا کہ کابینہ نے بے روزگاری الاؤنس کی بھی منظوری دی ہے۔ اس کے تحت بے روزگاروں کو محدود مدت کے لیے نقد رقم دی جائے گی تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔

یہ قانون قومیت سے قطع نظر تمام ملازمین پر لاگو ہوتا ہے اور 2023 میں نافذ ہو جائے گا۔ان فوائد کا اطلاق سرمایہ کاروں، گھریلو ملازمین، عارضی کنٹریکٹ ورکرز، پنشن حاصل کرنے والے ، نئی ملازمت شروع کرنے والے اور اور 18 سال سے کم عمر افراد پر نہیں ہوتا ہے۔

مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ یہ رقم ماہانہ نقد ادائیگیوں میں کی جائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام انشورنس پیکج کی طرح کام کرے گا جہاں رہائشی ہر سال ایک مخصوص رقم بے روزگاری فنڈ میں ادا کرتے ہیں۔

وہ لوگ جو غیر متوقع حالات میں اپنی ملازمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں، ان کی تنخواہ کا 60 فیصد، یا محدود وقت کے لیے $5,445 (AED 20,000) تک ماہانہ وصول کریں گے، جس سے آمدنی کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں