ماں بیٹی کے ساتھ رکشے میں زیادتی کیس میں بڑی پیشرفت

ماں بیٹی کیساتھ رکشے میں زیادتی کیس میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے ملزموں کیخلاف مقدمے میں درج دہشتگردی کی دفعات کو ختم کرنے کا حکم دیدیا ہے۔

تفصیل کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں چوہنگ کے علاقے میں ماں بیٹی سے رکشا میں زیادتی کے ملزمان کی دہشت گردی کی دفعات ختم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے مقدمے میں سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کا حکم دے دیا .

ملزم منصب نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ اس کیس میں دہشت گردی کی دفعات نہیں لگائی جا سکتیں، اس لئے عالیہ اسے ختم کرنے کا حکم دے۔

پراسیکیوٹر کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ ملزمان نے ماں اور بیٹی کو گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے خواتین کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے کر جنسی زیادتی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ملزم عمر فاروق اور منصب کیخلاف چالان جمع کرا رکھا ہے۔ ڈی این اے رپورٹ سے ملزمان کا جرم ثابت ہوتا ہے۔ پولیس نے ملزمان کیخلاف تمام شواہد کو چالان کا حصہ بنایا ہے۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزمان نے گذشتہ سال 22 اگست کی رات کو ماں بیٹی کو اسلحے کے زور پر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ متاثرہ خواتین دونوں ماں بیٹی نے دونوں ملزمان کو شناخت کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال 22 اگست کو لاہور میں وہاڑی کی رہائشی ماں بیٹی ٹھوکر نیاز بیگ کے بائی پاس اڈے پر اتریں اور وہاں سے انہوں نے صدر کینٹ جانے کے لئے رکشا لیا تھا۔

اس دوران ڈرائیور نے اپنے ساتھی کو بھی اسی رکشے میں بٹھا لیا اور منزل کی بجائے رکشا ایل ڈی اے ایونیو لے جا کر ویرانے میں روک دیا جہاں دونوں ملزمان نے ماں بیٹی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

ملزم منصب اور اس کے ساتھی کے خلاف لاہور کے تھانہ چوہنگ میں پولیس نے کیس درج کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں