کیا پاکستان کا حال سری لنکا جیسا ہونے والا ہے؟ شبر زیدی نے بتا دیا

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان کی سری لنکا جیسی صورتحال ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایسا کوئی خدشہ نہیں کے پاکستان ڈیفالٹ کر جائے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں شبر زیدی نے ایک چونکا دینے والا بیان جاری کرکے عوام کے رونگٹے کھڑے کر دیئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے، لوگوں کو دھوکا نہ دیا جائے۔

یہ چونکا دینے والی بات انہوں نے کراچی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہی تھی۔ شبر زیدی کا کہنا تھا کہ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان بینک کرپٹ ہو چکا ہے۔ ہم لاکھ کہتے رہیں کہ سب کچھ بہت اچھا ہے، سب ٹھیک ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ باتیں کرنا کہ ملک بڑا اچھا چل رہا ہے، ہم بڑی تبدیلی لے آئے ہیں، بالکل غلط ہیں۔ ہم سمجھتا ہوں کہ پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے۔

شبر زیدی نے کہا تھا کہ یہ تسلیم کرنا زیادہ ٹھیک ہے کہ ہم بینک کرپٹ ہو چکے ہیں، بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ پاکستان میں سب اچھا چل رہا ہے۔ میں یہ کر دوں گا، میں وہ کر دوں گا، میں یہ لے آئوں گا۔ یہ باتیں کرنا عوام کو صرف دھوکا دینے کے مترادف ہیں۔

اب اپنے حالیہ بیان میں شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان کو چلانے کے لئے پٹرولیم مصنوعات کا استعمال کم کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو جلد از جلد فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس نے اپنا سیاسی نقصان کرنا ہے یا ملک چلانا ہے؟

سابق چیئرمین ایف بی آر کا ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ نے جو بھی کرنا ہے فیصلہ کریں، یہ سیاسی نہیں معاشی فیصلہ ہے۔ اگر یہ پٹرول کی قیمت نہیں بڑھاتے تو ڈالر مہنگا ہوتا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس فیصلہ کرنے کے لئے آئندہ 48 گھنٹے انتاہئی اہم ہیں۔ تاہم پاکستانی معیشت کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لئے وقت درکار ہوگا۔

شبر زیدی نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جو کہہ رہا ہے اس پر عمل کیا جائے۔ آئی ایم ایف کی اگر شرائط تسلیم نہیں کرنی تو اعلان کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ آپ نے معیشت کے بنیادی مسائل حل کرنے ہیں کہ نہیں؟

انہوں نے کہا کہ فی الحال ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا کوئی خدشہ نہیں، آئی ایم ایف کے سوا حکومت کے پاس کوئی آپشن نہیں۔ آئی ایم ایف سے جلد معاہدہ کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں