آئی جی سندھ مشتاق مہر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

سندھ حکومت نے آئی جی مشتاق مہر کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ کامران فضل کو قائم مقام آئی جی تعینات کر دیا ہے۔ مشتاق مہر گذشتہ دو سال سے آئی جی سندھ کے عہدے پر تعینات تھے۔

مشتاق مہر کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹی فیکیشن چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق مشتاق مہر کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ان کی جگہ کامران فضل بطور قائم مقام پولیس چیف اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

مشتاق مہر کو فروری 2020 میں وفاق اور سندھ میں تنازعے کے بعد کلیم امام کی جگہ آئی جی تعینات کیا گیا تھا۔ اس سے قبل مشتاق مہر پاکستان ریلوے پولیس میں انسپکٹر جنرل کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

مشتاق مہر تنازعات کا شکار بھی رہے۔ انہیں سندھ ہائیکورٹ نے سیاسی پشت پناہی کا الزام ثابت ہونے کی وجہ سے کراچی پولیس چیف کے عہدے سے ہٹایا تھا۔

جب اگست 2018 میں انہیں سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر عہدے سے ہٹایا گیا تو ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سندھ کی بااثر سیاسی شخصیات کی ایما پر منی لانڈرنگ کیس کے گواہان کو پولیس کے ذریعے وعدہ معاف گواہ بننے سے روکنے کے لئے دباؤ ڈالا تھا۔

مشتاق مہر سندھ پولیس کے ساٹھویں سربراہ ہیں۔ اپنی سروس کے دوران وہ اے آئی جی ٹریفک سندھ، ایس ایس پی دادو، ڈی آئی جی کرائم، ڈی آئی جی سپیشل برانچ، اور ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم کے علاوہ اقوام متحدہ کی امن فوج میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

بطور کراچی پولیس چیف تعیناتی کے دوران بھی مشتاق مہر کو پانچ ہفتے کے لیے عہدے سے ہٹایا گیا تھا کیوںکہ ان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے الزامات سامنے آ رہے تھے، تاہم 5 ہفتے بعد انہیں دوبارہ عہدے پر بحال کر دیا گیا تھا۔

مشتاق مہر اس سے پہلے بطور ایڈیشنل آئی جی 3 سال تک کراچی پولیس چیف رہ چکے تھے۔ انہیں جولائی 2015ء میں ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کی جگہ اس عہدے پر لگایا گیا تھا۔

جولائی 2017ء میں ان کا تبادلہ ٹریفک پولیس چیف کے طور پر کیا گیا لیکن سندھ حکومت نے ایک ماہ بعد ہی انہیں دوبارہ کراچی پولیس کا سربراہ تعینات کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں