اگر فیصلے نہیں لے سکتے تو حکومت چھوڑ دینی چاہیے

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اقتدار میں رہ کر مشکل فیصلے کریں یا عوام میں واپس چلے جائیں، اب ہمارے پاس یہ ہی دو راستے بچے ہیں۔

نجی ٹیلی وژن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک کے جو حالات بن چکے ہیں، اس میں ملک کو نگران حکومت کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی اپنے استعفے واپس لینا چاہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ قانونی طور پر وہ ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس چیز کے حق میں ہوں کہ صدر مملکت عارف علوی اور گورنرز صاحبان اپنے عہدوں پر رہیں اور آئینی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

حکومت اور فوج کے معاملات پر بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کيلئے ايک پيج ہو تو معاملات حل ہوسکتے ہيں۔ حکومت کو ہر ادارے کی سپورٹ ہو تو کارنرٹرن کرسکتے ہيں۔ فوج اور حکومت کو ايک پيج پر ہونا چاہيے اور ہم ايک پيج پر ہيں۔

ملک کی معاشی صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آئی ایم کے ساتھ معاہدے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم سیاسی قیمت ادا نہیں کر سکتے، مشکل فیصلے نہیں لے سکتے تو حکومت کو خدا حاظ کہہ دینا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ موٹر سائیکل صارفین کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے لیکن پیٹرول کی قیمت میں 47 روپے اضافہ ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوشش کرنی چاہیے کہ عوام پر بوجھ نہ پڑے لیکن پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بڑھانا پڑے گا۔ ملکی معیشت کیلئے مشکل فیصلے کرنا ہونگے۔ ہم اس وقت کڑے امتحان سے گزر رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ مشکل فیصلے کرنے ہیں تو سب کو ایک پیچ پر آنا ہوگا۔ ان حالات ميں ملک کو نگراں سیٹ اپ کے حوالے نہيں کيا جا سکتا۔ حکومتی اتحاد کا فیصلہ ہے کہ مدت پوری کرنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں