حکومت کا تمام لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے تمام لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر اس وقت عوامی حکومت ہے جس میں وفاق کی تمام اکائیاں اور صوبوں کی نمائندگی موجود ہے،گزشتہ چار سالوں کے دوران معیشت کو تباہ کیا گیا، پاکستان کے عوام کو لوٹا گیا، مہنگائی کی شرح بڑھائی گئی، گزشتہ چار سال جتنا قرضہ لیا گیا وہ 1947ء سے 2018ء تک لئے جانے والے قرضے کا 80 فیصد ہے، چار سالوں میں قرضے کو 25 ہزار ارب سے بڑھا کر 43 ہزار ارب روپے کر دیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں غذائی مہنگائی 2.3 فیصد تھی، آج وہ لوگ سوال کر رہے ہیں انہو ں نے اس غذائی مہنگائی کو 16 فیصد تک پہنچایا،پاکستان 2018ء میں ایمرجنگ مارکیٹس کے اندر شامل ہو چکا تھا، ترقی کی شرح 6 فیصد پر پہنچ چکی تھی، پچھلے چار سالوں میں اسے منفی کیا گیا، پچھلے چار سالوں میں امپورٹڈ حکومت، امپورٹڈ کابینہ، امپورٹڈ مشیر اور امپورٹڈ ترجمانوں کی حکومت تھی۔

مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پچھلی حکومت کے دوران تجارتی خسارہ پاکستان کی بلند ترین سطح پر تھا، مسلم لیگ (ن) کے دور میں ترقی کی شرح 6 فیصد تھی، اس وقت ملک میں سی پیک تھا، 11000 میگاواٹ بجلی کے منصوبے بن رہے تھے، ڈالر کی قیمت مستحکم تھی،سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے اقامے پر تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم کو جب نکالا گیا تو اس وقت ڈالر کی قیمت 105 روپے تھی،جب 2018ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گئی تو ڈالر کی قیمت 115 روپے تھی۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سازشی کنٹینر پر کھڑے ہو کر چار ہفتوں کی حکومت سے سوال کرتے ہیں،انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے اور تھوڑی سی شرم کرنی چاہئے کہ ڈالر 189 پر ان کے دور حکومت میں گیا، غیر ملکی ذخائر کی بدحالی ان کے دور میں ہوئی، پاکستان کے عوام نے عدم اعتماد کے ذریعے ان سے چھٹکارا حاصل کیا، جب ان کی حکومت ختم ہوئی تو انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 193 روپے تھی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر عمران خان نے دستخط کئے جس کی وجہ سے آج عوام پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں، جو صبح دوپہر شام ملکی معیشت پر سوال اٹھا رہے ہیں ان پر عمران خان نے خود اعتماد نہیں کیا، اسد عمر کی وزارت ایک رات میں دو مرتبہ تبدیل کی گئی، وزیر خزانہ کئی مرتبہ تبدیل ہوا، آج وہی لوگ دوسروں پر معیشت کا سوال کر رہے ہیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی واحد حکومت تھی جس نے آئی ایم ایف پروگرام کو 2015ء میں مکمل کیا، مسلم لیگ (ن) نے آئی ایم ایف پروگرام کو رول بیک کیا، مسلم لیگ (ن) کے منشور میں پاکستان سے مہنگائی ختم کرنا ہے، 90 دن میں جو کرپشن ختم کرنے آئے تھے انہوں نے کرپشن کے ذریعے پاکستان میں مہنگائی میں اضافہ کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کارٹلز اور مافیاز نے چار سال پاکستان کے عوام کو لوٹا، جتنے وزراء اور مشیر امپورٹ ہو کر آئے تھے آج سب ایکسپورٹ ہو کر پاکستان سے باہر چلے گئے ہیں، بیرون ملک قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لئے فسکل مینجمنٹ کا مکمل پلان تیار کیا ہے،شہباز شریف وہ وزیراعظم ہے جس کو ڈالر کی قدر کا ٹی وی سے نہیں پتہ چلتا،شہباز شریف عوام کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے دن رات محنت کر رہے ہیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ غیر ضروری لگژری آئٹمز پر پابندی عائد کی جا رہی ہے، تمام وہ آئٹمز جو عام عوام کے استعمال میں نہیں ہیں ان کی درآمد پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے،تزئین و آرائش کی اشیاء سمیت تمام درآمدی گاڑیوں پر پابندی عائد ہوگی۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملک میں ایمرجنسی صورتحال ہے، ایسے وقت میں تمام پاکستانیوں کو قربانی دینا پڑے گی، لگژری آئٹمز پر پابندی کے نتیجے میں دو ماہ کے اندر غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، سالانہ چھ ارب ڈالر کی بچت ہوگی،ہماری ترجیح درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے اور برآمدات پر مبنی اکنامک پالیسی متعارف کرانا ہے، لگژری آئٹمز پر پابندی کا اثر مقامی انڈسٹری، لوکل پروڈیوسرز، مقامی سطح پر لگی ہوئی صنعت پر پڑے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی صنعت ترقی کرے گی، ملک کے اندر مقامی صنعتوں کے فروغ سے لوگوں کو روزگار میسر آئے گا، پچھلے چار سالوں کے دوران 60 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کیا گیا، لگژری آئٹمز پر پابندی کا براہ راست اثر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں