’رات کو بنی گالہ میں خواب آتا تھا، صبح لاہور میں بیگ آ جاتا تھا‘

عمران خان کے ماضی کے انتہائی قریبی ساتھی عون چوہدری نے نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے، اینکر کےسوالات کا جواب دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے لئے بہت جدوجہد کی لیکن مجھے اس کا صلہ یہ ملا کہ جب فتح قریب آئی تو مجھے دور کر دیا گیا کیونکہ وزیر اعظم کا حلف لینے کے دن صبح مجھے فون آیا کہ ایک خواب آیا ہے جس کے مطابق میرا تقریبِ حلف برداری میں ہونا درست نہیں۔ “مجھے رات کو 2 بجے فون آیا۔ میرے پاس یہ میسج محفوظ ہے۔ اگر ہماری وفاداریوں کے فیصلے ایسے خوابوں پہ ہی ہونے ہیں تو ان فیصلوں سے ہم دور ہی اچھے”۔

عون چوہدری کے مطابق انہیں دور اس لئے کیا گیا کہ ان کی غلطی یہ تھی کہ وہ عمران خان کے وفادار تھے۔ اگر میں نے کچھ غلط کیا ہوتا تو عمران خان تین سیکنڈ بھی وہ بات پیٹ میں نہ رکھتے۔ وہ کب کا باہر آ گیا ہوتا۔ “مجھے اللہ نے بچانا تھا۔ جو پاکستانیوں کے ساتھ تین سال ظلم ہوا ہے، اللہ نے مجھے اس سے دور رکھنا تھا، شاید اس لئے ہی یہ ہوا”۔

عون چوہدری کے مطابق بشریٰ بی بی نے انہیں عمران خان سے دور اس لئے کیا کہ وہ ان کے منصوبوں میں رکاوٹ تھے۔ بعد میں سب نے دیکھا کہ جو گینگ آگے آیا جس نے پاکستان کو چلایا، جس گینگ نے پنجاب کو چلایا، یہ وہ گینگ تھا جس نے فیصلہ کیا کہ اس کو ہٹاؤ تب ہی ہم اپنے پلان میں کامیاب ہوں گے۔

عون چوہدری کا کہنا تھا کہ اس گینگ میں خاتونِ اول کی دوست فرح ‘گوگی’، احسن جمیل گجر اور بعد میں ان کا تحفہ عثمان بزدار سامنے آیا۔ میں نے عمران خان کو ون آن ون میٹنگ میں کہا کہ آپ نے ایک نااہل آدمی کو آدھے پاکستان کا مالک بنا دیا ہے۔ آپ کے پنجاب کو عثمان بزدار نہیں، فرح گوگی اور احسن جمیل گجر چلاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے ایک ہفتے کے اندر اندر پنجاب کابینہ سے علیحدہ کر دیا گیا۔ “میں نے اس میٹنگ میں انہیں کہا تھا کہ ہم نے یہ جدوجہد اس لئے نہیں کی کہ ٹرانسفر اور پوسٹنگز پر منڈیاں لگیں”۔

‘رات کو خواب آتا تھا، دن میں بیگ آ جاتا تھا’

اس سوال کے جواب میں کہ آیا بشریٰ بی بی اور مانیکا خاندان کا اس سب میں کوئی کردار تھا، عون چوہدری نے کہا کہ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا لیکن پنجاب میں زبان زدِ عام ہے کہ کس کے کہنے پر تقرریاں و تبادلے ہوتے تھے۔ رات کو خواب آتا تھا، دن کو بیگ آ جاتا تھا۔ اور اس پر فیصلہ ہو جاتا تھا۔ “کون سے ڈپٹی کمشنر، کمشنر، پرنسپل سیکرٹری کی پوسٹنگ پیسوں کے بغیر ہوئی؟ آپ کے چیف انجینیئر تک تو پیسے دے کر لگتے رہے ہیں۔ یہ تو ہوتا رہا ہے اس صوبے میں۔ کیا آپ کے خیال میں عمران خان اس چیز سے لاعلم ہیں؟ خواب بنی گالہ میں دیکھے جاتے تھے، بیگ لاہور پہنچ جاتا تھا”۔

عون چوہدری کا کہنا ہے کہ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ میں اس حکومت کا حصہ کیوں رہا۔ “مجھے انہوں نے کہا کہ تمہیں پنجاب میں ذمہ داری دے رہے ہیں۔ تم وہاں میری آنکھیں اور میرے کان ہو۔ تم مجھے حقیقت بتانا جو پنجاب میں ہو رہا ہوگا”

‘عمران خان نے کہا ابھی نوٹیفکیشن نکالو، فواد چودھری کو پارٹی سے نکال دو’

عون چوہدری نے انٹرویو میں بتایا کہ عمران خان کو لوگ کان میں کچھ کہہ دیتے تھے، وہ کہتے تھے انہیں پارٹی سے نکال دو۔ میں لوگوں کو لا کر عمران خان سے ملاقاتیں کروا دیتا تھا کہ کہیں ہمارا بندا ضائع نہ ہو جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فواد چودھری ضمنی الیکشن ہارے تو انہوں نے کچھ ٹوئیٹس کر دیں، کچھ لوگوں نے آ کر عمران خان صاحب کو وہ ٹوئیٹس دکھائیں تو عمران خان نے کہا کہ ابھی نوٹیفکیشن نکالو اور فواد چوھدری کو پارٹی سے نکال دو۔

“میں حلفاً کہہ رہا ہوں۔ فواد چودھری زندہ ہیں، آپ ان سے پوچھ لیں۔ میں نے جہانگیر ترین کو فون کیا اور کہا کہ فواد چودھری ایک اچھا سپوکس پرسن ہے، ہمیں اس کو نکال کر نقصان ہوگا۔ ترین صاحب نے اور میں نے عمران خان سے ملاقات کی، فواد چودھری کو بلوا کر ملاقات کروائی۔ آج وہ پارٹی کے سپوکس پرسن ہیں۔ ہم نے پارٹی کے لئے دل و جان سے کام کیا تھا۔ اس لئے نہیں کیا تھا کہ ایک دن کوئی خواب آئے گا اور ہمیں پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔ میرے پر کرپشن کا الزام لگائیں، ٹکٹیں بیچنے کا الزام لگائیں۔ ان کے سوشل میڈیا کے ہاتھوں تو کسی کی عزتیں محفوظ ہی نہیں ہیں۔ میں باتیں کھولنے پر آ گیا تو سوشل میڈیا ٹیم تو آنکھیں اور کان بند کر کے گھر بیٹھ جائیں گے”۔

‘جس شخص کو نیسلے اور نیسپاک میں فرق نہیں پتہ، اسے وزیر اعلیٰ لگا دیا’

عون چوہدری کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار نے ایک گھنٹے کی پریزنٹیشن کے بعد پوچھا کہ نیسلے اور نیسپاک میں فرق کیا ہوتا ہے۔ یہ میں آپ کو حلفاً بتا رہا ہوں۔ میں نے ان سے کہا آپ نے ایک گھنٹے کی پریزنٹیشن ضائع کروا دی، آپ پہلے ہی یہ پوچھ لیتے۔ “آپ نے آدھے پاکستان پر ایک ایسا شخص لگایا جس کا آپ کو پتہ ہے یہ کس طرف سے آیا ہے۔ کیونکہ آپ کو ڈمی لگانا تھا۔ اور اس نے شخص نے جسے LDA، GDA اور RDA کا نہیں پتہ تھا، اس نے LDA میں پھر وہ کام دکھائے ہیں کہ آپ کی سوچ ہوگی”۔

کیا عمران خان ذاتی طور پر دیانت دار ہیں؟

اینکر نے عون چوہدری سے پوچھا کہ عمران خان ذاتی حیثیت میں تو دیانتدار ہیں نا، تو عون چوہدری نے کہا کہ “جب میں آپ کو آ کر حلفاً کہوں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک غلط کام، کرپشن ہوتے دیکھی ہے اور میں گواہ ہوں اس چیز کا اور آپ یہ سننے کے باوجود الٹا مجھے پیچھے پھینک دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ جان بوجھ کر لاعلم ہونا چاہتے ہیں۔ آپ حقیقت نہیں سننا چاہتے”۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں