شاہ محمود قریشی کو فون کال کس نے کی تھی؟

گذشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران اچانک ایک اہم کال آئی۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے انھیں کال اٹینڈ کرنے سے منع کیا لیکن انہوں پھر بھی اسے اٹھا لیا تھا۔

اس فون کال کے بعد میڈیا پر چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کہ آخر اس اہم پریس کانفرنس کے دوران کس نے شاہ محمود قریشی کو کال کی؟ اور عمران خان نے کیوں کال اٹینڈ کرنے سے منع کر دیا تھا؟

سوشل میڈیا پر بھی اس ویڈیو کا کلپ وائرل ہو چکا ہے اور لوگ اس فون کال پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گذشتہ روز اپنی پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ پشاور میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان سے کچھ دیر قبل عمران خان کی دائیں جانب بیٹھے شاہ محمود قریشی کا فون بجنا شروع ہوتا ہے، جس پر عمران خان انھیں یہ فون کال سننے سے منع کرتے ہیں اور فون بند کرنے کا کہتے ہیں۔

مگر اس کے باوجود شاہ محمود قریشی ناصرف یہ فون کال سنتے ہیں بلکہ اس کے بعد وہ عمران خان کے کان میں یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ پھر آپ کو ٹریپ کر دیں گے۔ یہ سن کر عمران خان جواب دیتے ہیں کہ کر لیں، کر لیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہیں بتا سکتے کہ فون کال کس نے کی تھی؟ میں اس معاملے پر خاموشی اختیار کروں گا۔

دوران گفتگو انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملک میں جلد انتخاب کی راہ میں اصل رکاوٹ سابق صدر آصف علی زرداری ہیں جو ایسا نہیں چاہتے۔ وہ تمام فوائد حاصل کرکے ہی انتخابات میں جانے کے خواہشمند ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا 25 مئی کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔

عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کور کمیٹی نے لانگ مارچ کی تاریخ کا فیصلہ کرلیا ہے، حکومت کی تبدیلی کیلئے امریکی سازش ہوئی۔ امریکا نےملک کےکرپٹ ترین لوگوں کو ساتھ ملایا، اس سازش کا علم گزشتہ جون سے ہی تھا، کوشش کرتے رہے کہ یہ سازش کامیاب نہ ہو، بدقسمتی سے ہم اس سازش کو نہیں روک سکے۔

عمران خان نے کہا کہ 7مارچ کو امریکی انڈرسیکریٹری نے ہمارے سفیر کو دھمکی دی، ڈونلڈ لونے کہا اگر عمران خان کو نہیں ہٹاؤ گےتوپاکستان کیلئےمسئلے ہوں گے ، یہ سازش میرےخلاف نہیں پاکستان کے خلاف ہوئی تھی۔

سابق وزیر اعظم نے کہ ہمارا جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد پر تھا،ملک آگے بڑھ رہا تھا، 1960کی دہائی کےبعدپہلی بار ملک آگے بڑھ رہا تھا، ملک میں ریکارڈفصلیں ہوئیں، کسانوں کو پیسہ ملا، آئی ٹی کی ایکسپورٹس پہلی دفعہ 75 فیصد تک بڑھیں، جب حکومت میں آئے توپاکستان کا 20 ارب ڈالر کا بیرونی خسارہ تھا، ہم ملک کو مشکل حالات سےنکال رہے تھے کہ کورونا آگیا، ہم نے اپنے لوگوں اور معیشت کو کورونا سے بچایا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اب پتہ چلا ان کاتجربہ صرف کرپشن کیسز ختم کرنے میں ہے، مہنگائی کی صورتحال تشویشناک ہے، ان کے پاس کوئی پلان یا روڈ میپ نہیں، اقتدار میں آنے والوں پر کیسز ہیں، مفرور باہر سے بیٹھ کر فیصلے کر رہا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہندوستان نے کل پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان کیا ہے، ہندوستان نے روس سے سستا تیل خریدا ہے، ہم بھی روس سے30فیصدکم قیمت پرتیل خریدنےکیلئےبات چیت کررہےتھے، موجودہ حکومت کی جرات نہیں کہ روس سےسستاتیل یا گندم خرید سکے۔

انہوں نے کہا کہ میں ملک کی بہتری کیلئے کوشش کر رہا تھا یہ باہر سے پتلے لے کر آ گئے، چوروں کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنا دیا گیا، یہ قوم کی توہین ہے، ملک کا وزیراعظم ضمانت پر ہے، جن پر نیب کے کیسز ان چوروں کولایاگیا.÷

سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اسلام آبادمارچ کرنےکافیصلہ کرلیاہے، صرف پی ٹی آئی ورکرزکونہیں،پوری قوم کودعوت دےرہاہوں۔ عمران خان نے25مئی کولانگ مارچ کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ 25مئی کواسلام آبادمیں ملیں گے، ہرشعبےکےلوگ لانگ مارچ میں بھرپورشرکت کریں، ہم کسی صورت ان چوروں کوتسلیم نہیں کریں گے، سری نگر ہائی وے پر دوپہر 3 بجےآپ سے ملوں گا۔

پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہمارامطالبہ ہےکہ اسمبلی تحلیل کریں اورالیکشن کااعلان کریں، اداروں نےکہاہم نیوٹرل ہیں توپھرنیوٹرل رہیں، پولیس، بیوروکریسی اورفوج سےکہتا ہوں ہم توڑ پھوڑ نہیں کرینگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں