آئی ایم ایف سے معاہدہ کرکے پاکستان واپس آئوں گا

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے قوم کو امید دیتے ہوئے کہا ہے کہ انشاء اللہ مثبت خبر آئے گی۔ آئندہ دو روز میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کیساتھ معاہدہ کرکے ہی وطن واپس آئوں گا۔

یہ بات انہوں نے کراچی ائیرپورٹ پر قطر روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان نے جس قسم کے الفاظ کا استعمال کیا، وہ ان کے ذہن کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے گذشتہ دھرنے سے بھی ملک کو شدید معاشی نقصان پہنچا تھا۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ 29 کلومیٹرلاہور بی آر ٹی ستائیس ارب روپے میں تعمیر ہوئی تو عمران خان کہتے تھے کہ کرپشن ہوئی لیکن اب وہ فرح گوگی اور شہزاد اکبر کے فرار پر خاموشی طاری کئے ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شريف نے اپنے سابقہ اقتدار میں ايک بھی سیمنٹ کمپنی کو لائسنس نہیں دیا تھا کیوںکہ 2 سے زيادہ سیمنٹ کمپنیوں کو ایسی سہولت نہیں دی جا سکتی تھی۔ دوسری جانب عمران خان نے سیمنٹ کے 16 لائسنس فروخت کئے.

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شريف کے دور میں عوام کو چینی 70 روپے فی کلو مل رہی ہے۔ وہ عوام کو مہنگائی کے عفریت سے نجات دینے حکومت میں آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں عمران خان سے وفا کی کوئی امید نہیں ہے۔ جو اپنے ملک کے نہ بن سکے وہ مسلم لیگ ن کے نہیں بنیں سکتے۔ ہم نے پی ٹی آئی سے کوئی مدد نہیں مانگی۔

مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لئے دوحہ جا رہا ہوں۔ عمران خان نے جو بھاری قرض لیا اس کی ادائیگی کیلئے بات کر رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ان لوگوں نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا تھا جس کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں، یہ ایک لکھا ہوا معاہدہ ہے۔ شوکت ترین کے فارمولے سے 150 روپے ڈیزل کی قیمت بڑھانی پڑے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آئی ایم ایف سے کہوں گا کہ ہمیں مزید وقت دیا جائے کیونکہ ہماری قوم پیٹرولیم مصنوعت کی قیمتوں کو بڑھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہم فوری طور پر قیمتوں میں اضافہ نہیں کر سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں