31 مئی سے پہلے اہم فیصلے آ سکتے ہیں، شیخ رشید کا دعویٰ

سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت کو چالیس دن پورے ہو گئے ہیں بلکہ یوں کہیں کہ ان کا چالیسواں پورا ہو گیا ہے۔ یہ آج اتحادی کہیں گے کہ ہم مدت پوری کرینگے لیکن یہ نہیں کر سکتے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اہم بیان میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ جی کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ مرکز اور پنجاب میں صرف ایک ایک ووٹ کی اکثریت ہے۔ بلوچستان میں عدم اعتماد ہونے جا رہی ہے۔

شیخ رشید نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ 25 ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنروں کو صوبہ پنجاب میں 24 گھنٹوں میں تبدیل کر دیا گیا لیکن یہ عمران خان کے اسلام آباد لانگ مارچ کا راستہ نہیں روک سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے سیاسی اندازوں کے مطابق 31 مئی سے پہلے اہم فیصلے آ سکتے ہیں۔ تاہم دو چار دن اوپر نیچے بھی ہوسکتے ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عظیم سوموٹو لے کر نیب، ایف آئی اے اور اے این ایف کے کیسز کو ختم کرنے کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ آئے ہی اپنے مقدمات کو ختم کرانے کیلئے تھے۔ ان کو جلد ہی دوبارہ جیلوں کے منہ دیکھنا ہونگے۔ پاکستان کی فوج عظیم جانثار فوج ہے، وہ کبھی اپنے لوگوں پر گولی نہیں چلائے گی۔

سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج ملکی معیشت کو مزید تباہ ہوتے بھی نہیں دیکھے گی۔ اور ایک ایسا حل نکالے گی جو ملک کو معاشی، سیاسی اور انتظامی بحران سے نکال سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ پاک فوج کو سیاست میں گھسیٹے۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل میں پیٹرول، گیس اور بجلی کا مسئلہ ان سے حل کروائیں اور آرٹیکل 245 کا استعمال بھی کرائیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوگا۔

شیخ رشید نے کہا کہ موجودہ حکومت کو شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔ یہ لوگ اپنے جال میں خود ہی پھنس چکے ہیں۔ جو گڑھا انہوں نے عمران خان کیلئے کھودا تھا اس میں خود ہی گر چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں