لاہور ہائیکورٹ : عمران ریاض خان کی چار روزہ حفاظتی ضمانت منظور

لاہور ہائیکورٹ نے اینکرعمران ریاض خان کی چار روزہ حفاظتی ضمانت منظور کرلی. عدالت نے پولیس کوعمران ریاض کو گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کر دی. عدالت نے عمران ریاض کو شامل تفتیش ہونے کی بھی ہدایت کردی.

جسٹس طارق سلیم شیخ نے کیس کی سماعت کی، عمران ریاض نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ عمران ریاض کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں مقدمات درج کیے گئے ہیں، اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے متعلقہ عدالتوں میں پیش ہونا چاہتا ہوں، خدشہ ہے کہ پولیس گرفتار کر لے گی، لاہور ہائیکورٹ حفاظتی ضمانت منظور کر کے پولیس کو گرفتاری سے روکے.

واضح رہے کہ ضلع ٹھٹھہ کی دھابیجی پولیس نے نجی ٹی وی کے اینکر عمران ریاض خان کے خلاف بغاوت پر اکسانے، اشتعال انگیزی اور فساد کرانے کی کوشش کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا مقدمہ نمبر46/2022محلہ واسوانی وارڈ نمبر تین کے رہائشی عاشق علی قریشی ولد غلام مصطفٰے قریشی کی مدعیت میں زیردفعہ 505,153,131 تعزیرات پاکستان کے تحت درج کیاگیا ہے۔

مدعی مقدمہ کا کہناہے کہ وہ کنسٹریکشن کا کام کرتا ہے، مورخہ 21 مئی 2022 کو وہ مارکیٹ میں اپنے دوست بنام عدنان ولد مختیار خان سکنہ مارکیٹ دھابیجی کے پاس اس کی دکان پر موجود تھا اور وہاں میں اپنے موبائیل پر سوشل میڈیا استعمال کر رہا تھا جس میں ایک آڈیو کلپ چل رہا تھا جس میں ایک اینکر عمران ریاض خان، پاک فوج اور ملک کے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز اور انتشار پھلانے والی گفتگو کر رہا تھا، میں محب وطن شہری ہوں اور اینکر عمران ریاض خان کی جانب سے سوشل میڈیا پر پاک فوج اور ملکی ریاستی اداروں کے خلاف بات کر کے انتشار پھیلانے کی جس طرح سے بات کی گئی ہے اس سے مجھے صدمہ ہوا ہے اور میرے اور عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اس تھانے پر حاضر ہو کرفریاد کرتاہوں کہ یہ آڈیو موبائل میں موجود ہے اور یو ایس میں بھی محفوظ کر کے پیش کرتا ہوں۔

ٹھٹھہ پولیس کے اپنے ریکارڈ کے مطابق فریادی کے خلاف سال 2015 سے لے کر 2022 تک ضلع ٹھٹھہ میں ٹھٹھہ پولیس اسٹیشن، مکلی پولیس اسٹیشن اور میرپورساکر پولیس اسٹیشن میں مضر صحت گٹکا و مین پوری کی فروخت کے دس مقدمات درج ہو چکے ہیں جس میں ٹھٹھہ پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ پولیس کے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ کا بھی شامل ہے جبکہ ایف آئی آر میں فریادی نے اپنا نامکمل پتہ درج کرایا موصوف ٹھٹھہ کے رہنے والا ہے لیکن دھابیجی میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں نہ ٹھٹھہ شہر تحریر ہے اور نہ ہی موبائل فون نمبر تحریر ہے۔

ٹھٹھہ پولیس کے اپنے ریکارڈ کے مطابق عاشق علی المعروف عاشی کے خلاف پولیس اسٹیشن ٹھٹھہ میں سال 2015 میں زیر دفعہ 269، 270 پی پی سیکے تحت مقدمہ نمبر 44 ، سال 2016 میں زیر دفعہ 353،269، 270 پی پی سی کے تحت مقدمہ نمبر 76 اور بعدازاں مقدمہ نمبر 224 ، سال 2017 میں زیر دفعہ 269 اور 270 پی پی سی کے تحت مقدمات نمبر 74 اور 117، سال 2018 میں پی ایس مکلی پر زیر دفعہ 269 اور 270 پی پی سی کے تحت مقدمہ نمبر 59، سال 2019 میں پولیس اسٹیشن ٹھٹھہ پر زیر دفعہ 269 اور 270 پی پی سی کے تحت مقدمات نمبر 203 اور 205، سال 2020 میں پولیس اسٹیشن میرپور ساکرو میں زیردفعہ 3، 4، 8گٹکا ایکٹ 2019 کے تحت مقدمہ نمبر 70/2020 اور رواں سال پولیس اسٹیشن ٹھٹھہ پر زیردفعہ 3، 4، 8گٹکا ایکٹ 2019 کے تحت مقدمہ نمبر 8/2022 درج کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں