دسویں جماعت کی طالبہ کا اغوا لڑکی نے 164 کا بیان ریکارڈ کرا دیا

دسویں جماعت کی طالبہ کے اغوا سے متعلق از نوٹس کیس کے معاملے میں مغوی لڑکی نے 164 کا بیان ریکارڈ کرا دیا .

بازیاب کی جانے والی لڑکی کو شاد باغ تھانے کے تفتیشی افسر نے عدالت میں پیش کیا، سپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ اعجاز ثناء اللہ خان کی عدالت میں لڑکی کا 164 کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو لڑکی کو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مغویہ کو گذشتہ رات ساہیوال سے بازیاب کروایا گیا تھا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی کے حکم پر لڑکی کی بازیابی کے لئے کارروائی کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: شاد باغ سے اغوا طالبہ ساہیوال سے بازیاب

پولیس کے مطابق دسویں‌جماعت کی طالبہ کو ساہیوال سے بازیاب کرالیا گیا،پولیس نے ملزمان عابد اور الیاس کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر لاہور شاد باغ سے اغوا ہونے والی طالبہ کو ساہیوال سے بازیاب کرالیا گیا تھا ۔ پولیس نے ملزمان عابد اور الیاس کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔

طالبہ نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کیا کہا؟

شادباغ سے اغوا ہونے والی میٹرک کی طالبہ کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم عابد اسے پاکپتن لے جا کر زبردستی نکاح کی کوشش کی۔پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں میٹرک کی طالبہ نے بتایا کہ جب نکاح سے انکار کیا تو مجھ پر تشدد کیا گیا، ملزم عابد یا اس کے کسی ساتھی نے زیادتی نہیں کی۔لڑکی نے بتایا کہ اغوا کے بعد ملزمان مجھے قصور لے گئے تھے، ملزم فون پر کسی وکیل سے بار بار بات کرتا رہا اور ملزمان پولیس کے آنے سے پہلے مجھے پاکپتن لے گئے، ملزمان نے قصور سے نکلتے وقت اپنا فون بند کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ شادباغ کے علاقہ سے دسویں جماعت کی طالبہ کے اغواء کا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نوٹس لیا تھا،عدالت نے حکم دیا تھا کہ پولیس مغوی طالبہ کو بازیاب کرکے عدالت پیش کرے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے رات 8 بجے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر آئی جی پنجاب اور سی سی پی او ہائیکورٹ پیش ہوئے، اس کے علاوہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جواد یعقوب اور عبدالعزیز اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

چیف جسٹس طالبہ کے بازیاب نہ ہونے پر برہم ہوئے، آئی جی پنجاب نے کہا کہ بچی کی ساہیوال میں تلاش جارہی ہے۔ جس پر چیف جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ بچی آپکے ہاتھوں سے لیکر ساہیوال چلے گئے اور آپ کچھ نہ کر سکے، عدالت اس وقت اس لیے نہیں بیٹھی کہ آپ کو مہلت دے۔

عدالت نے آئی جی پنجاب کی مہلت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دس بجے تک بچی کو بازیاب کروالیں ورنہ عہدہ پر نہیں رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں