‘امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو کو برطرف کرنا چاہیے’

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکی معاون وزیر خارجہ برائے وسط اور جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو کو برطرف کرنا چاہیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نےغیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ روس کادورہ تمام اسٹیک ہولڈرزکی مشاورت سے بہت پہلے پلان ہو چکا تھا۔ پاکستان کےاندورنی معاملات میں مداخلت کی گئی۔

سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ امریکی عہدیدار نے کہا عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو معاف کر دیا جائے گا اور اس سے اگلے ہی دن قومی اسمبلی میں میرے خلاف تحریک عدم اعتماد آگئی، 22 کروڑعوام کے منتخب وزیراعظم کوہٹانے کی دھمکی دی گئی۔

عمران خان نے انٹرویو میں کہا کہ امریکی معاون وزیر خارجہ برائے وسط اور جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو کی دھمکی سے پہلے امریکی سفارتخانہ ہمارے پارٹی ممبران کو بلاتا رہا، انہیں خریدنے کیلئےلاکھوں ڈالر لگائے گئے۔انہوں نے کہا کہ امریکی عہدیدار ڈونلڈ لوکو برطرف کرنا چاہیے۔

سابق وزیر اعظم سے سوال کیا کہ امریکی سفارت خانے کے حکام ہمارے ناراض ایم این ایزسے ملاقات کیوں کر رہے تھے، امریکا نے پاکستان میں رجیم چینج کیوں کرایا؟ انہوں نے بتایا کہ سائفر کو کابینہ اجلاس میں پڑھ کرسنایا گیا، قومی سلامتی کمیٹی میں بھی سائفر کا معاملہ اٹھایا گیا، قومی سلامتی کمیٹی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود تھے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے مزید کہا کہ ہمارے ٹرمپ انتظامیہ سے بہترین تعلقات تھے، لیکن جوبائیڈن کے صدر بننے کے بعد دو طرفہ تعلقات میں بدلاؤ آیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی 60 فیصد کابینہ ضمانت پر ہے، آئندہ انتخابات کے نتائج سے متعلق کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتا،لیکن یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ اب دوبارہ حکمرانی کریں گے؟ جس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی ناصرف آئندہ انتخابات جیتے گی بلکہ سب سے زیادہ ووٹ لے کر ملک کی سب سے بڑی حکمران جماعت ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں