عمرانی فتنے کا شکار لوگوں کو آخری وارننگ دیتا ہوں

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان قوم کو گمراہ اور تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ میں عمرانی فتنے کا شکار لوگوں کو آخری وارننگ دیتا ہوں۔

وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ بدبخت ٹولے سے عوام کی جان آئینی طریقے سے جان چھوٹی تھی لیکن لانگ مارچ کے نام پر قوم کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ فتنہ فساد نہ پھیلاتے تو ہم کبھی ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنتے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پشاور کے تمام تر وسائل کرتے ہوئے وفاق پر حملہ آور ہونے آ رہے ہیں۔ پشاور سے یہ بڑے جتھے کی صورت میں اسلام آباد آنا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی ساری قیادت پشاور میں ہے، کوئی اپنے گھروں میں نہیں ہے۔ لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد مارچ کیا جا رہا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے ذریعے حکومت کو زبردستی ہٹانے کی بات کی گئی۔ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کو روکا جائے گا۔ پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن یہ پرامن احتجاج کرنے نہیں آ رہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ قومی مسئلہ ہے، اس کیلئے تمام اداروں اور سیاسی جماعتوں کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ گمراہی اور قوم کو تقسیم کرنے کا ایجنڈا آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔

اس سے قبل وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ بے گناہ پولیس اہلکار کمال احمد کے سینے میں لگی گولی ثبوت ہے کہ عمران خان دہشت گرد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمال احمد کا قاتل عمران خان، شیخ رشید اور اس کے حواری ہیں۔ ’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے۔ پولیس پر فائرنگ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ سیاسی سرگرمی نہیں ہے۔ فائرنگ ثبوت ہے کہ یہ پرامن مارچ چاہتے ہی نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ گالیاں برسانے والوں نے گولیاں برسانا شروع کردی ہیں، قانون کو ہاتھ میں لیاگیا ہے، قانون جواب لے گا۔ عمران خان مارچ کی آڑ میں ملک میں خانہ جنگی کی سازش کررہے ہیں۔ کمال احمد کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ ملک میں خانہ جنگی، افراتفری ، فساد اور انتشار کو قانون کے راستے سے روکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں