امریکی سکول میں فائرنگ، 19 بچے ہلاک

امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک سکول میں فائرنگ کے نتیجے میں 19 بچے اور تین بالغ افراد ر ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے دوسری سے چوتھی جماعت تک کے بچوں کی عمریں 7 سے 10 سال تک بتائی گئی ہیں۔

وائس آف امریکا کے مطابق 18 سالہ نوجوان نے سکول میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کر کے بچوں اور اساتذہ کو نشانہ بنایا۔ ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کے مطابق حملہ آور موقع پر پہنچنے والے پولیس افسروں کی فائرنگ سے مارا گیا۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو نشانہ بنانے والی ایسالٹ رائفل استعمال کی۔ کم از کم دو افراد سنگین حالت میں ہسپتال میں ہیں۔ زخمی اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں تبدیلی کا امکان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلح شخص اسی علاقے کا رہنے والا تھا اور ایک ہینڈ گن اور رائفل کے ساتھ سکول میں داخل ہوا اور فائرنگ شروع کر دی۔تاہم، واقعے کی چھان بین ابھی جاری ہے۔

یووالڈی میموریل ہسپتال نے ابتدا میں بتایا تھا کہ 13 بچے بس یا ایمبولنس کے ذریعے ہسپتال لائے گئے، جبکہ ایک 66 سالہ خاتون ٹیچر کو کسی اور ہسپتال پہنچایا گیا۔

راب ایلیمنٹری سکول میں بچوں کی کل تعداد 600 سے کم بتائی جاتی ہے۔ یووالڈی کی کل آبادی تقریبا 16 ہزار افراد پر مشتمل ہے اور یہ شہر میکسیکو کی سرحد سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر امریکہ میں واقع ہے۔

ٹیکساس میں فائرنگ کے اس واقعے سے صرف دس روز پہلے ریاست نیو یارک کے شہر بفلو کے ایک گروسری اسٹور میں ایک سفید فام نوجوان نے نفرت کی بنا پر فائرنگ کر کے 10 افریقی امریکیوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

امریکہ میں اسکول شوٹنگ کا اب تک کا بد ترین واقعہ دسمبر 2012 میں ریاست کنیٹیکٹ میں پیش آیا جہاں سینڈی ہُک ایلیمنٹری اسکول میں ایک نوجوان نے فائرنگ کر کے 20 بچوں اور چھے بڑوں کی جان لے لی۔

واقعے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹیلی ویژن پر قوم سے مختصر خطاب میں گن لابی پر تنقید کرتے ہوئے زور دیا کہ ایسے سانحوں کو روکنے اور “اس درد کو اقدامات میں بدلنے کا وقت آ گیا ہے”۔ افسردہ نظر آنے والے صدر بائیڈن نے کہا کہ، “ایک بچے کو کھو دینا ایسا ہے جیسے کسی نے آپکی روح کو چیر دیا ہو۔”

اپنے خطاب سے پہلے صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سمیت امریکہ بھر میں تمام سرکاری عمارتوں ، فوج کے اڈوں اور بحری جہازوں پر امریکی پرچم 28 مئی، 2022 کے غروبِ آفتاب تک سر نگوں رکھنے کا حکم دیا۔

صدر بائڈن نے ایسے ہتھیاروں کی باآسانی خرید و فروخت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ” گنز بنانے والوں نے دو دہائیاں لگا دیں ایسے ہتھیاروں کی پر زور تشہیر پر کیونکہ یہ بہت منافع بخش ہیں”۔ صدر نے کہا کہ عام امریکی ہتھیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق معقول قوانین کی حمایت کرتے ہیں اور جو لوگ ان قوانین کی منظوری کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، انہیں یاد رکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں