کسی سمجھوتےکاسوال ہی پیدانہیں ہوتا: عمران خان

چیئرمین‌تحریک انصاف عمران خان کا اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا کہ سمجھوتےسےمتعلق جان بوجھ کر افواہیں اور غلط معلومات تراشی جارہی ہیں۔ ہرگز نہیں!ہم اسلام آبادکیجانب بڑھ رہےہیں چنانچہ کسی سمجھوتےکاسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں عمران خان کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں کی تحلیل اورانتخابات کی تاریخ کےاعلان تک ہم وہی رہیں گے۔میں راولپنڈی/اسلام آبادکےتمام شہریوں کوشرکت کی دعوت دےرہاہوں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل خبریں آئیں تھیں کہ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان‌معاہدہ طے پا گیا ہے کہ آج اسلام آباد میں صرف جلسہ ہو گا تاہم اس متعلق حکومت اور تحریک انصاف دونوں کی جانب سے تردید کی گئی ہے.

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا ۔ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات اور معاہدے کی خبر بے بنیاد ہے ۔ پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے مسلح جتھے کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا ۔

دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے کسی معاہدے کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ نئے الیکشن سے کم کوئی بات قبول نہیں.
لاہور میں پولیس نے پی ٹی آئی کارکنوں کو روکنے کیلئے مختلف علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ کارکنوں کی بڑی تعداد ان کو ہٹانے کیلئے پہنچی تو ان کی پولیس سے جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ پولیس نے متعدد کو گرفتار کر لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جی ٹی روڈ کے اہم مقام بتی چوک پر لگائی گئی رکاوٹوں کو پی ٹی آئی کارکنوں نے ہٹانے کی کوشش کی تو پولیس اہلکاروں نے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ شروع کردی۔

پی ٹی آئی کارکنوں نے رکاوٹوں کو ہٹا کر راوی پل جانے کی کوشش کی تو وہاں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں ناکام بنا دیا اور کئی میٹرز پہلے ہی ان کو روک لیا۔ خیال رہے کہ لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں کو بڑے بڑے کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے۔ راوی پل پر بھی صورتحال کے پیش نظر کنٹینرز لگائے گئے ہیں۔

ایوان عدل کے باہر تحریک انصاف کے کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ لاہور ٹمبر مارکیٹ میں بھی پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما شفقت محمود اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ لانگ مارچ کیلئے نکلے لیکن پولیس کی بھاری نفری نے راستے میں ہی ان کو روک لیا۔ شفقت محمود کا اس اقدام پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، لیکن ہمیں ہمارے حق سے بزور طاقت روکا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما زبیر خان نیازی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری ایوان عدل کے سامنے سے عمل میں لائی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت نے سیکیورٹی کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے رینجرز کی بھاری نفری کو طلب کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔

گجرات میں پولیس نے تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مار کر ان میں سے متعدد کو گرفتار کرلیا۔ 16 ایم پی او کے تحت 18 کارکنوں کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے ضلع بھر سے کارکنوں کو گرفتار کرنے کی لسٹ جاری کر دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں