پولیس اہلکار کی ایک اور ویڈیو وائرل، سین ہی الٹ گیا

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک پولیس اہلکار کی ویڈیو خوب وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک خاتون اسے غلیظ گالیاں دے رہی ہے۔ اس نوجوان کی خوب پذیرائی ہوئی، مگر ایک اور ویڈیو نے سین ہی الٹ دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل دوسری ویڈیو میں یہ پولیس اہلکار پی ٹی آئی دھرنے میں شامل ایک نوجوان کو گریبان سے پکڑ کر لے جا رہا ہے جبکہ اس کے ساتھ دیگر پولیس اہلکار بھی موجود ہیں۔

یہ ویڈیو پشاور سے تحریک انصاف کے سابق رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار خان نے شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو میں یہ پولیس اہلکار ایک نوجوان کو اسے گھسیٹتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔

پی ٹی آئی کارکن کے ہاتھ میں پانی کی بوتلیں بھی صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ پولیس اہلکاروں کا الزام تھا یہ نوجوان درختوں کو آگ لگانے میں مصروف تھا کہ اسے دھر لیا گیا۔

تاہم وہ نوجوان پی ٹٰ آئی کارکن مسلسل دہائیاں دیتا رہا کہ وہ آگ لگا نہیں بلکہ پانی سے اسے بجھا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: خاتون کی بدتمیزی برداشت کرنے والا پولیس اہلکار سامنے آگیا

خیال رہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران ایک مشتعل خاتون نے کانسٹیبل شہباز کے ساتھ غلیظ زبان کا استعمال کیا اور اشتعال دلوانے کی کوشش کی، جس پر کانسٹیبل نے بہت زیادہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا تھا۔

محمد شہباز نامی یہ پولیس اہلکار لاہور میں تعینات ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں محمد شہباز نے بتایا کہ میں اس وقت پی ٹی ایس روات راولپنڈی میں لوئر کلاس کورس کیلئے زیر تربیت ہوں۔

پولیس اہلکار محمد شہباز کا کہنا تھا کہ اس وقت میں پنجاب کانسٹیبلری بٹالین 5 عباس لائن لاہور میں ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہوں۔ شیر جوان اہلکار نے بتایا کہ میں اپنے دیگر ساتھیوں کیساتھ اسلام آباد میں ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا کہ ہمیں پتا چلا کہ کچھ لوگ درختوں کو آگ لگا رہے ہیں۔

اس نے بتایا کہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مقررہ جگہ پہنچا اور وہاں موجود لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا تو ادھر سے یہ خاتون میرے پیچھے پڑ گئی اور گندی اور غلیظ زبان کا استعمال شروع کر دیا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ خاتون میرے ساتھ انتہائی سخت الفاظ کا استعمال کر رہی تھی لیکن اس کے باوجود میں نے برداشت اور صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا۔ کیونکہ یہ میری ٹریننگ اور تربیت کا حصہ ہے۔

شہباز کا کہنا تھا کہ ہمیں پولیس ٹریننگ کے دوران یہ لازمی سکھایا جاتا ہے کہ تمام مائیں بہنیں ہماری اپنی ہیں۔ اور ان کی عزت وتکریم کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہمیں ٹریننگ دی جاتی ہے کہ چاہے کوئی بھی سچویشن کیوں نہ ہو، کبھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں