‘جون تک آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول کامعاہدہ ہوجائے گا’

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ جون تک آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول کامعاہدہ ہوجائے گا، اس کے بعد پاکستان کونئی قسط ملے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جون تک آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول کامعاہدہ ہوجائے گا، اس کے بعد پاکستان کونئی قسط ملے گی، ہم سیاسی دباؤ کاسامنا کریں گے اوروہ فیصلے کریں گے جوملک اورقوم کے مفادمیں ہوں، نئے مالی سال کابجٹ 10 جون کوپیش کیاجائے گا۔

وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایاکہ وزیرعظم نے گزشتہ رات قوم سے خطاب میں جواعلانات کئے ہیں ان سے ملک کے غریب اورکم آمدنی رکھنے والے طبقات کوفائدہ پہنچے گا، یہ حقیقت ہے کہ پیٹرول اورڈیزل کی قیمت بڑھانے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگالیکن اگرایسا نہ کرتے توروپیہ کی قدرمزیدگرجاتی اورملک اورمعیشت کانقصان ہوتا،مشکل اورسخت فیصلہ ملک وقوم کے مفاد میں کیاہے، اس فیصلے سے روپیہ کی قدرپراچھا اثرپڑا ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی آئی ہے،اس سے لیکویڈیٹی کادباؤ کم ہوجائے گا۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ غریب پروری وزیراعظم شہبازشریف کی روایت ہے، سابق حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی کاجوطوفان آیاہے اس کے تدارک کیلئے حکومت سے جوکچھ ہوگا وہ کرے گی۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم سستاپیٹرول سستاڈیزل سکیم کے تحت ایک کروڑ40 لاکھ پاکستانی گھرانوں کوماہانہ دوہزارروپے وظیفہ دیا جائے گا، یہ بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام سے حاصل معاونت سے اضافی ہوگا، اس سکیم سے 8 کروڑ 40لاکھ افراد یا ایک تہائی آبادی مستفید ہو گی۔اس سکیم کی لاگت 28ارب روپے ہے، اس سکیم سے 73لاکھ وہ گھرانے جو بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ ہیں، مستفید ہوں گے اس کے علاوہ 67لاکھ وہ گھرانے بھی شامل ہیں جوبی آئی ایس پی میں شامل تونہیں مگر ان کا پاورٹی کاسکور37 سے کم ہے، ایسے گھرانے ٹیلی فون نمبر786 پراپنا شناختی کارڈ نمبرارسال کرکے یہ امداد حاصل کرسکیں گے،اس میں گھرانوں کی سربراہ خواتین اوربیواوں کوترجیح دی جائے گی۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان بیوروبرائے شماریات کے مطابق پاکستان میں ایک گھرانہ اپنی آمدنی کا 5 فیصد ٹرانسپورٹ پرخرچ کرتا ہے اسی پیمانہ کے مطابق آمدنی کے پانچ فیصد کے مطابق امداد دی جائے گی،اس سکیم کوآئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیاجائے گا۔انہوں نے سکیم میں معاونت فراہم کرنے پرڈاکٹرشازیہ مری اورسیکرٹری بی آئی ایس پی کاشکریہ اداکیا۔

مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے حکومت کو60 ارب روپے کاکم نقصان ہوگا، پاکستان میں پیٹرول کی ماہانہ کھپت 2کروڑلیٹرکے قریب ہے، پیٹرول اورڈیزل کی سبسڈی سے امیرطبقات سب سے زیادہ استفادہ کررہے تھے جودرست طریقہ کارنہیں ہے، عمران خان کی حکومت نے آئی ایم ایف سے جومعاہدہ کیاتھااس میں انہوں نے ایک روپیہ کی سبسڈی نہ دینے کے عہدکیاتھا، اسی فارمولا کے مطابق ڈیزل کی قیمت 300 روپے اورپیٹرول کی قیمت 260 سے لیکر270 روپے فی لیٹرہونا چاہیے مگرہم نے ایسانہیں کیا، ہم غریب لوگوں پرزیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔ہم جی ایس ٹی اورلیوی بھی نہیں لگائیں گے۔

وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ شوکت ترین باربارکہتے ہیں کہ ہم نے سبسڈی کیلئے پیسہ چھوڑا ہے، انہوں نے اس مد میں ایک روپیہ بھی نہیں چھوڑا، شوکت ترین نے 25 ارب کا پرائمری خسارہ ہونے کادعویٰ کیاتھا اورسب کومعلوم ہے کہ یہ خسارہ 1323 ارب روپے سے زیادہ ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ وہ نہیں کہہ سکتے کہ پیٹرول کی قیمت میں آئندہ اضافہ ہوگا یانہیں، مجھے نہیں لگتا کہ اس میں جلد مزیداضافہ ہو ۔انہوں نے کہاکہ بجلی کی قیمت بڑھانے سے متعلق ابھی کوئی سمری نہیں آئی ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ دوحہ میں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں پاورپلانٹس کی نجکاری کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ نجکاری ہونی چاہئیے۔

ایک سوال پروزیرخزانہ نے کہاکہ پیٹرول کی قیمت خوشی سے نہیں بڑھائی، عمران خان نے اس پرسیلزٹیکس اورلیوی عائد کی تھی، جب ان کی حکومت جانے لگی توقیمتیں فریز کی گئی، جتنا ایک سویلین حکومت کاخرچہ ہوتا ہے اس سے زیادہ اس سبسڈی میں جارہاتھا۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ وزیرعظم کے اعلان کے مطابق یوٹیلیٹی سٹورز سے متعلق اعلانات آج نافذ کئے جائیں گے۔ ایک سوال پروزیرخزانہ نے کہاکہ سعودی عرب سے تین ارب ڈالررول اوور ہوجائیں گے، سعودی عرب کے وزیرخزانہ نے اس حوالہ سے ایک بیان میں دیا ہے، سعودی عرب ہماری مزیدمددبھی کررہاہے مگرمیں ابھی اس کی تفصیلات نہیں دے سکتا۔

مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے پروگرام میں ایک سال کی توسیع اورمعاونت میں مزید2 ارب ڈالردینے کی درخواست کی ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ سے عالمی بینک، ایشیاانفراسٹرکچر ڈولپمنٹ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اوردیگرامداددینے والے ممالک اورادارے ہماری معاونت کریں گے۔اس سے نئے راستے کھل جاتے ہیں جومعیشت کیلئے اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول اورڈیزل کی قیمت بڑھانے کافیصلہ مشکل تھا مگرایساکرنا ناگزیرتھا، ہمیں پتہ ہے کہ اس سے ہمارے سیاسی سرمایہ میں کمی آئے گی مگرہمیں ریاست کے مفادات عزیز اورمقدم ہیں ، ہمیں لوگوں کی خدمت اورسیاست آتی ہے، ہم سیاسی دباؤ کاسامنا کریں گے اوروہ فیصلے کریں گے جوملک اورقوم کے مفادمیں ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں