چیئرمین نیب کی تعنیاتی، حکمران اتحاد میں اختلافات

قومی احتساب بیورو (نیب) کے نئے چیئرمین نیب کی تعنیاتی کے معاملے پر حکمران اتحاد میں اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کے نام پر تحفظات ظاہر کر دئیے ہیں۔

پبلک نیوز ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو مزید نام بھیجنے کی ہدایت کردی ہے لیکن سابق صدر آصف علی زرداری مقبول باقر کے نام پر ہی بضد ہیں۔

سابق صدر آصف زرداری کا موقف ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کی اچھی شہرت اور وہ غیر متنازع ہیں۔ تاہم لیگی قیادت کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ ججز کو چیئرمین نیب لگانے کے اثرات ہم بھگت چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کی جانب سے آصف زرداری سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ کسی اچھی شہرت کے حامل بیوروکریٹ کا نام تجویز کردیں۔

اس سلسلے میں اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کو سابق سرکاری افسران کے نام دینے کی درخواست کر دی گئی ہے۔ اختلافات کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم شہباز شریف کی دوبارہ ملاقات نہ ہوسکی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر زرداری نے مقبول باقر کا نام واپس نہ لیا تو ہمیں یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں: نئے چیئرمین نیب کے نام پر تمام اتحادی متفق

خیال رہے کہ اس سے قبل خبریں تھیں کہ حکومت میں شامل جماعتیں نئے چیئرمین نیب کے نام پر متفق ہو گئی ہیں۔ موجودہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو ہٹانے کے لیے آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ موجودہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مدت آئندہ 2 جون کو ختم ہو جائیگی، اس لئے کہا جا رہا ہے کہ مقررہ تاریخ سے قبل ہی نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی ہونے کا امکان ہے۔

اس سلسلے میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی قیادت کے درمیان قومی احتساب بیورو کے نئے چیئرمین کے نام پر طویل مشاورت کی گئی۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ ہائیکورٹ سے عدالت عظمیٰ میں پروموٹ کیا گیا تھا۔ بطور جج ان کے کریکٹر پر کبھی کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور

خیال رہے کہ قومی اسمبلی نے قومی احتساب بیورو آرڈیننس 1999 ء میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ اس میں چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پر ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے۔ ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی بھی سینئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کا چارج ملے گا۔

بل کے مطابق وفاقی یا صوبائی ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے ہیں ، مالی فائدہ نہ اٹھانے کی صورت میں وفاقی یا صوبائی کابینہ کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئیں گے،کسی بھی ترقیاتی منصوبے یا سکیم میں بےقائدگی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گی۔

بل میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے فیصلوں پر نیب کاروائی نہیں کر سکے گا، احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی 3 سال کے لیے ہوگی، احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے لیے متعلق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری ہوگی۔

بل کے مطابق نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 2 ماہ پہلے شروع کیا جائے گا،نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 40 روز میں مکمل ہوگا،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائےگا،پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی۔

بل میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کی 3 سالہ مدت کے بعد اسی شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا،ڈپٹی چیئرمین کی تقرر کا اختیار صدر سے لے کر وفاقی حکومت کو دے دیا جائے گا، احتساب عدالتیں کرپشن کیسز کا فیصلہ ایک سال میں کریں گی،نیب انکوائری کے لیے نئے قانون کے تحت مدت کا تعین کر دیا گیا،نیب اب 6 ماہ کی حد کے اندر انکوئری کا آغاز کرنے کا پابند ہوگا،نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹوں میں نیب کورٹ عدالت میں پیش کرنے پابند ہوگا۔

کیس دائر ہونے کے ساتھ ہی گرفتاری نہیں ہوسکتی، نیب گرفتاری سے پہلے کافی ثبوت کی دستیابی یقینی بنائے گا، نیب قانون میں ترمیم کرکے ریمانڈ 90 دن سے کم کرکے 14 دن کر رہے ہیں، نیب ملزم کے لیے اپیل کا حق 10 روز سے پڑھا کر 30 روز کر دیا گیا ہے، ملزم کے خلاف ریفرنس دائر ہونے تک کوئی نیب افسر میڈیا میں بیان نہیں دے گا، ریفرنس دائر ہونے سے قبل بیان دینے پر متعلقہ نیب افسر کو ایک سال تک قید اور 10 لاکھ تک جرمانہ ہو سکے گا، کسی کے خلاف کیس جھوٹا ثابت ہونے پر ذمہ دار شخص کو 5 سال تک قید کی سزا ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں