کیا پاکستان کو یوکرین بنانے کی سازش ہو رہی ہے؟

سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کیا پاکستان کو دوسرا یوکرین بنانے کی سازش ہو رہی ہے؟ اسرائیلی اور ہندوستانی لابی نے اپنا کام شروع کر دیا اور سامراجی طاقتوں کی ان کو سپورٹ حاصل ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے اہم بیان میں شیخ رشید نے لکھا کہ چین اور ایران سے تعلقات کو کون خراب کر رہا ہے؟ کیا پاکستان کو دوسرا یوکرین بنانے کی ہو رہی ہے؟ پاکستان ایک اسلامک ایٹمی پاور ہے، اس کی معیشت کو اس لئے تباہ کیا جا رہاہے کہ ہم پر آنے والے دنوں میں پریشر بڑھایا جائے جس کے پیچھے اسرائیلی اور ہندوستانی لابی نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور سامراجی طاقتوں کی ان کو سپورٹ حاصل ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک عالمی سازش کے تحت خانہ جنگی کی طرف جھونکا جا رہا ہے۔ زرداری ایک ٹی وی انٹرویو میں خود تسلیم کر چکے ہیں کہ جوبائیڈن اس کا ذاتی دوست ہے اور مراسلے کے بارے میں جوبائیڈن نے ان کو کچھ نہیں بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ شریف برادران عوام کو مہنگائی کی چکی میں ڈال رہے ہیں جس سے بے روزگاری بڑھے گی۔ چوری اور ڈاکے عام ہونگے، خود کشیاں ہونگی، اس سے ملک میں امن وامان اور سیاسی خلفشار خانہ جنگی کے حالات پیدا ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان 30 فیصد کم نرخ پر روس سے گندم اور پیٹرول لے رہے تھے جو آج انڈیا لے رہا ہے لیکن سامراجی طاقتوں نے عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کرکے روس کیساتھ اس منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے اور اپنے ایجنٹوں کو اقتدار میں لے آئے ہیں۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ 25 مئی کو اسلام آباد کے جلوس پر ہونے والے حملے کا سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے۔ یہ بہت خطرناک بات ہے کہ اجرتی قاتل رانا ثناء اللہ ملک میں صوبوں اور مرکز کو لڑانا چاہتا ہے اور صوبائی چیف منسٹروں کو اسلام آباد داخلے سے روکا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ہی ان قوتوں کو بے نقاب کر سکتی ہے جنہوں نے ملک کو انتشار، خلفشار اور معاشی بحران میں ڈالا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے پیچھے کون ہے؟اس کے کیا مقاصد ہیں؟ اور ہندوستان سے تجارت کس کے کہنے پر کی جا رہی ہے؟

انہوں نے بتایا کہ میں نے ہائیکورٹ میں درخواست دی ہے کہ جتنے شہروں میں میرے خلاف مقدمات دائر کئے گئے ہیں ان تمام کیسز کو یکجا کر دیا جائے کیونکہ حکومت دراصل لندن سے چلائی جا رہی ہے اور اسلام آباد میں صرف میڈیا پروگرام ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018ء میں سپریم کورٹ اوورسیز پاکستانیوں کو واضح طور پر ووٹنگ کا حق دے چکئ ہے اس لئے موجودہ حکومت کی اس معاملے پر قانون سازی بے معنی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں