اشرافیہ کی ناکامیوں کو عام لوگ کیوں برداشت کریں؟

پبلک نیوز: سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹوئٹ، انہوں نے کہا کہ سیاسی، عسکری، عدالتی اشرافیہ کی ناکامیوں کو عام لوگ کیوں برداشت کریں؟

ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاق اب ختم ہونا چاہئے، عام آدمی کو پیٹ پر پتھر باندھے پر مجبور کیا جا رہا تو سیاستدانوں، جرنیلوں، ججز اور سینئر بیوروکریٹس کی تنخواہ آدھی کی جائیں، ان سے مفت سہولیات اور مراعات واپس لی جائیں.

واضح رہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 فی لیٹر اضافہ کردیا جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 209 روپے 86 پیسے ہوگئی۔ حکومت کی جانب سے ایک ہفتے میں پیٹرول 60 روپے فی لیٹر مہنگا کردیا جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر 209 روپے 86 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت 181 روپے 94 پیسے ہوگی جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 204 روپے 15 پیسے ہوگی۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 25مارچ کو چین نے 2اعشاریہ3ارب ڈالر واپس لے لیے تھے، چین نے اس پر بہت مشکل شرائط رکھ کر شرح سود بھی بہت زیادہ بتایا تھا، ہم اس معاملے پر چین سے مسلسل رابطے میں تھے، وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بھی چین جا کر اس معاملے پر بات کی، چین نے اب یہ رقم دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، کچھ دنوں میں یہ پیسے ہمیں مل جائیں گے، اس رقم سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں، عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے، اوگرا کی آئندہ سمری جب آئے گی تو اس وقت تک نقصان اور بھی بڑھ جائے گا، 3جون سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 30 روپے کا اضافہ ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں