بغاوت کا مقدمہ: کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فردِ جرم عائد

لاہور کی عدالت نے کار سرکار میں مداخلت اور بغاوت کے کیس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

تفصیل کے مطابق آج کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، وفاقی وزیر خرم دستگیر وہ دیگر کیخلاف کیخلاف درج کیسز کی سماعت ہوئی۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اعوان اور مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی عمران خالد بٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے استغاثہ اور شہادت کے گواہان کو 20 جون کو طلب کرتے ہوئے بغاوت کے مقدمے میں صفدر اعوان اور عمران خالد پر فرد جرم عائد کر دی۔ اس کے علاوہ کارِ سرکار میں مداخلت کے کیس میں ملزموں کو انتیس جون کو طلب کر لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ عدالت کی جانب سے خرم دستگیر اور کیپٹن (ر) صفدر کو عدالت کی جانب سے آئندہ خاصری سے استثیٰ دیدی ہے۔ تاہم عمران خالد کو ہر پیشی پر پیش ہونے کا پابند کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 2020ء میں کیپٹن (ر) صفدر کیخلاف گوجرانوالہ کے سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس سٹیشن میں کیس درج کیا گیا تھا۔ اس کیس میں لیگی رکن اسمبلی عمران خالد بٹ بھی نامزد ہیں۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور عمران خالد بٹ نے ایک میٹنگ کی تھی جس میں انتظامی اور ریاستی اداروں کیخلاف دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز الفاظ استعمال کیا گیا تھا۔

دوسری جانب لاہور کی مقامی عدالت میں بھی انتشار انگریز تقاریر اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں کیپٹن (ر) صفدر پر فرد جرم عائد کردی ہے۔ عدالت نے 10 جون کو کیس کے گواہوں کو طلب کر لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں