بنگلا دیش میں خوفناک دھماکا اور آتشزدگی، کم از کم 50 افراد ہلاک

بنگلا دیش کے جنوب مشرقی شہر سیتاکنڈ میں ایک کنٹینر ڈپو میں آتشزدگی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 50 ہو گئی ہے۔ مرنے والوں میں پانچ فائر فائٹرز بھی شامل ہیں۔

سیتا کنڈ ملک کے دوسرا بڑا شہر ہے جو چٹاگانگ سے صرف 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ چٹاگانگ میڈیکل کالج ہسپتال کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل محمد شمیم احسن نے بتایا کہ ہسپتال میں اب تک 34 لاشیں آئی ہیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سیتا کنڈ قصبے میں ایک کنٹینر سٹوریج ڈپو میں لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے فائر فائٹرز کو بلایا گیا، جب دھماکہ ہوا۔ آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ ڈپو میں رکھے کچھ کنٹینرز میں کیمیکل موجود تھا جس کی وجہ سے آگ لگی۔

قریبی ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں اور لوگوں سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت اب بھی تشویشناک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ایک لاری ڈرائیور طفیل احمد نے بتایا کہ وہ ایک جگہ پر کھڑا تھا اور جب دھماکہ ہوا تو وہ اپنی جگہ سے 10 میٹر دور گر گیا۔ اس حادثے میں اس کے ہاتھ پاؤں جھلس گئے ہیں۔ ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ جس جگہ آگ لگی وہاں مزید لاشیں ہوسکتی ہیں۔

لوگوں نے بتایا کہ دھماکے کی آواز جائے وقوعہ سے تقریباً چار کلومیٹر دور سنی گئی۔ ایک مقامی دکاندار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ آگ کی بارش ہو رہی ہے۔ دھماکے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں تباہ شدہ کنٹینرز صاف نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ گودام کی چھت بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

اتوار کی صبح فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس دوران مسلسل دھماکے کی وجہ سے انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی سمندر میں کیمیکل کے بہاؤ کو روکنے کے لیے فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔

ایک علاقائی سرکاری اہلکار نے بتایا کہ کنٹینر ڈپو میں لاکھوں ڈالر مالیت کے کپڑے تھے۔ جنہیں مغربی خوردہ فروشوں کو برآمد کیا جانا تھا۔ بنگاہ دیش مغربی ممالک کو برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے۔ اور پچھلی دہائی میں یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا گارمنٹ ایکسپورٹر بن گیا ہے۔

بنگلا دیش میں قوانین کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث اس طرح کے حادثات اکثر منظر عام پر آتے رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں سینکڑوں اموات ہو چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں