پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، حکومت کو نوٹس جاری

لاہو ہائیکورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

متفرق درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، وزارت داخلہ، وزارت پٹرولیم اور وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو ہفتوں میں تحریری جواب جمع کرائے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے دوران سماعت درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کا نام بطور فریق واپس لیں۔

درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ سماعت کے دوران عدالت کے روبرو اپنے دلائل میں کہا کہ ملک میں تیل کی قیمتں بڑھانے کا کوئی طریقہ کار سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ یہ سراسر مفاد عامہ کا معاملہ ہے۔ عدالت کو چاہیے کہ وہ آئینی طور پر اس کا بغور جائزہ لے۔ دو رکنی بنچ کے پاس تیل کی مصنوعات پر سیلز ٹیکس کا معاملہ زیر غور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہآئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو طریقہ کار کے بغیر تیل کی قیمتوں میں اختیار ہی نہیں کہ وہ اس میں کوئی ردوبدل کر سکے۔ اس لئے عدالت عالیہ سے درخواست ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ غیر قانونی اضافے کو واپس لینے کے احکامات جاری کرے۔

دریں اثناء لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کے دوران احمد مسعود گجر ایڈووکیٹ سمیت باقی درخواست گزاروں کی درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کرنے کیخلاف باقی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کا کام ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں طے کرے۔

غیر ضروری درخواست دائر کرنے پر عدالت عالیہ نے وکیل سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اب میں فیصلہ کروں گا کہ تیل کی قیمتیں کیا ہونی چاہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں