سلمان خان کو ملنے والے دھمکی آمیز خط میں کس کا ہاتھ؟

اس دھمکی آمیز خط میں کہا گیا تھا کہ سلمان خان کا حال بھی سدھو موسے والا جیسا ہوگا۔ یہ خط ملنے کے بعد پورے انڈیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ممبئی پولیس کے ساتھ ساتھ دہلی پولیس بھی تحقیقات میں شامل ہے۔ اس معاملے پر گینگسٹر لارنس بشنوئی سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

دہلی پولیس کے سپیشل سیل کی طرف سے کی گئی پوچھ گچھ میں لارنس بشنوئی نے کہا ہے کہ اس خط میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ دھمکی کس نے دی ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ خط میں ایل بی اور جی بی لکھا گیا تھا، جی بی کا مطلب گولڈی برار ہے۔ لارنس بشنوئی کا کہنا ہے کہ گولڈی کی سلمان خان سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔

دہلی پولیس کے مطابق ہو سکتا ہے کہ کسی نے ان کے (گولڈی برار) کے نام پر شرارت کی ہو یا یہ کسی اور گینگ کا کام ہو۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کو گذشتہ ماہ قتل کر دیا گیا تھا۔ کینیڈین گینگسٹر گولڈی برار نے موسے والا کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔

پولیس کے مطابق سلمان خان کے والد سلیم خان کو یہ خط ایک بنچ پر ملا جہاں وہ روزانہ جاگنگ کے بعد بیٹھتے ہیں۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ خط کے پیچھے بشنوئی کا ہاتھ ہے یا کسی نے فساد پھیلانے کے لیے ان کا نام استعمال کیا ہے۔

ممبئی کے پولیس کمشنر سنجے پانڈے نے کہا کہ ہم اس دھمکی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس معاملے پر ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔ اداکار سلمان خان کی حفاظت پر، ہم عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔

ادھر سلمان خان کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس سلمان خان کے گھر کے باہر نصب سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کر رہی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش کا عمل بڑھا دیا ہے۔

خیال رہے کہ لارنس بشنوئی نے 2011 میں ریلیز ہونے والی فلم ”ریڈی” کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن اسلحے کے مسئلے کی وجہ سے یہ ناکام ہو گیا۔ اس کے بعد گینگسٹر نریش شیٹی کو اداکار پر حملہ کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں