پاکستانی خاتون کرکٹر کیساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا انکشاف

پاکستان میں ایک خاتون کرکٹر پر جنسی تشدد اور اجتماعی زیادتی کا انکشاف ہوا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس میں مبینہ واقعے ملوث کوچ کو معطل کر دیا ہے۔ کوچ کا تعلق سائوتھ پنجاب ریجن سے بتایا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کوچ کا نام ندیم اقبال ہے۔ پی سی بی کو کوچ سے متعلق پولیس کی تفتیش کا انکشاف گذشتہ ہفتے ہوا تھا۔ خبریں ہیں کہ کرکٹ بورڈ کی پچھلی انتظامیہ کے دور میں اس کو سائوتھ پنجاب ریجن کا کوچ تعینات کیا گیا تھا۔

کوچ ندیم اقبال کیخلاف درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ خاتون کرکٹر کا تعلق گگو منڈی کے گرلز کالج سے ہے۔ یہ خاتون کالج ٹیم کیساتھ بطور بائولر منسلک ہے۔ کوچ نے اسے نوکری اور ٹیم میں سلیکشن کا لالچ دے کر اپنے گھر بلایا تھا۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کوچ نے مجھے نشہ آور دوا کھلا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ ملزم کا دوست بھی اس گھنائونے فعل میں شریک ہوا۔

متاثرہ خاتون کرکٹر نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہے کہ سائوتھ پنجاب ریجن کے معطل کوچ اور اس کے دوست نے ناصرف مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس موقع کی ویڈیوز بنا کر انھیں سوشل میڈیا پر بھی شیئر کر دیا تھا.

مقدمے میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ کوچ ندیم اقبال نے جعلی نکاح نامہ تیار کروا کے مجھے اپنی اہلیہ تک ظاہر کرنے کی بھی کوشش کی۔

خاتون کرکٹر کے پولیس کو دیئے گئے بیان کے مطابق ملزم ندیم اقبال نے اسے 29 مئی کو اغوا کرکے تشدد اور اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ کیش، موبائل فون اور زیورات بھی چھین لئے۔

پولیس اس مبینہ واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کوچ کو معطل کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں