افغانستان میں ایک اور زلزلہ، زمین ہلا کر رکھ دی

افغانستان میں ایک اور شدید زلزلے نے زمین ہلا کر رکھ دی ہے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4 اعشاریہ 3 ریکارڈ کی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق حالیہ زلزلہ افغانستان کے مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 18 منٹ پر آیا۔ زلزلے کی گہرائی 163 کلومیٹر زیر زمین جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے علاقے فیض آباد سے 76 کلومیٹر دور تھا۔

خیال رہے کہ منگل کی رات آنے والے شدید زلزلے سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ سینکڑوں زخمی ہے۔ افغان حکام کے مطابق کئی گائوں ملیا میٹ ہو چکے ہیں۔ ملبے تلے اب بھی لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

افغان حکومت نے تباہ کن زلزلے کے پیش نظر بین الاقوامی مدد کی اپیل کر دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں زلزلے کے بعد کی صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔ عالمی برادری کو آگے بڑھ کر ہماری مدد کرنی چاہیے۔

ادھر وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر افغانستان کے زلزلہ متاثرین کیلئے پاکستان کی جانب سے امدادی سامان کی کھیپ روانہ کر دی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے بھیجی گئی اس کھیپ میں رہائشی خیمے ، ترپال، کمبل اور ضروری ادویات شامل ہیں۔

افغانستان میں آنے والے 6.1 ریکٹر اسکیل کے زلزلے سے متاثرہ افغان گھرانوں کو پاکستان کی جانب سے غم کی اس مشکل گھڑی میں ہر ممکن تعاون اور مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش نے افغانستان میں تباہ کن زلزلے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے باعث سینکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہو ئے ہیں اور یہ تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دل افغانستان کے عوام کے لیے افسردہ ہے جو پہلے ہی کئی سالوں کی کشیدگی کے باعث درپیش معاشی مشکلات اور بھوک کا شکار ہیں ۔

انتونیو گوترش نے کہا کہ افغانستان میں اقوام متحدہ مکمل طور پر متحرک ہے اور اقوام متحدہ کی ٹیمیں ضروریات کا تعین کر رہی ہیں اور ابتدائی امداد فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ زلزلے سے متاثرہ سینکڑوں خاندانوں کی مدد کرے کیونکہ یہ وقت یکجہتی کے اظہار کا ہے۔

بعد ازاں سیکرٹری جنرل کے ترجمان فرحان حق نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت اور متعدد فلاحی تنظیمیں افغانستان کے پکتیکا اور خوست صوبوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر رہی ہیں جو ادویات اور طبی آلات اور اضافی طبی سامان کو متحرک کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا طالبان حکومت سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہے لیکن گذشتہ روز شدید بارش اور تیز ہوائوں کے باعث اسے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ طالبان حکومت نے بعض متاثرہ خاندانوں کو کھانے پینے کی اشیا، خیمے فراہم کیے لیکن مزید امداد کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں گذشتہ روز آنے والے زلزلے سے ایک ہزار افراد جاں بحق اور 1500 سے زائد زخمی ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں