5 تجربہ کار کرکٹر غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور

کرکٹرز اپنی لگژری زندگی گزارنے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ آپ نے بہت سے کرکٹرز کو غریب سے امیر ہوتے دیکھا ہوگا، لیکن کیا آپ ان کھلاڑیوں کو جانتے ہیں جو انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے بعد غریب ہو گئے۔ آج ہم آپ کو ایسے ہی 5 کھلاڑیوں کے بارے میں بتائیں گے۔

میتھیو سنکلیئر

میتھیو سنکلیئر نیوزی لینڈ کے کرکٹر ہیں۔ انہوں نے سال 2013 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ ریٹائر ہونے کے بعد ان کے خاندان کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ سنکلیئر اب اپنے خاندان کی کفالت کے لیے ایک رئیل سٹیٹ کمپنی میں کام کر رہے ہیں۔

کرس کیرنز

نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر کرس کیرنز 2004 میں ریٹائر ہوئے۔ ریٹائر ہونے کے بعد کرس نے ایک کاروبار شروع کیا جس میں انہیں کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد وہ خاندان کی پرورش کے لیے ٹرک چلانے اور صفائی کے کام کرتے رہے۔ ان کو گذشتہ سال کئی بیماریوں نے آگھیرا۔ یہاں تک کے وہ چلنے پھرنے سے دوبھر ہو گئے۔ ہسپتال میں ان کے کئی آپریشنز کئے گئے تھے۔ رواں سال ان کی وہیل چیئر پر بیٹھے تصاویر وائرل ہوئی تھیں۔

ارشد خان

ارشد خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے شاندار سپن باؤلر رہے ہیں۔ 58 ون ڈے اور 9 ٹیسٹ میچز کھیلنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہونے والے ارشد خان کو ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیکسی ڈرائیور کی نوکری کرنی پڑی۔ آسٹریلیا جا کر ٹیکسی چلانے کے بعد ان کے اچھے دن لوٹ آئے۔

ایڈم ہولیوک

انگلینڈ کی جانب سے کھیلنے والے ایڈم ہولیوک کو اپنے دور کا بہترین آل راؤنڈر مانا جاتا تھا۔ جب ایڈم کرکٹ سے ریٹائر ہوئے تو انہیں کافی مالی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے مکسڈ مارشل آرٹس کھیل شروع کرکے اپنے خاندان کی کفالت شروع کی۔

جناردن نولے

اس فہرست میں ایک ہندوستانی کرکٹر بھی شامل ہے۔ جناردن نولے نے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز 1934 میں کیا۔ کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے ایک شوگر مل میں سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کیا۔ ان کا انتقال 7 ستمبر 1979 کو ہوا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں