امریکی سینیٹ میں کئی دہائیوں بعد پہلے گن کنٹرول بل کی منظوری

امریکی سینیٹ نے گن کنٹرول بل کی منظوری دے دی ہے جو اسلحے کی روک تھام کے حوالے سے 3 دہائیوں میں اب تک کی سب سے اہم قانون سازی ہے۔امریکی سینیٹ کے 66 اراکین نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 33 نے اس کی مخالفت کی۔ڈیموکریٹ پارٹی کے 51 اور ری پبلکن پارٹی کے 15 اراکین نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا۔

یہ بل اس وقت منظور ہوا ہے کہ جب مئی میں نیویارک کے علاقے ٹیکساس اور بفیلو کے علاقے Uvalde میں فائرنگ کے واقعات میں 31 افراد ہلاک ہوئے تھے اوراب اس بل کو کانگریس میں منظوری کے لیے بھی پیش کیا جائے گا، جس کے بعد صدر جو بائیڈن کے دستخط سے یہ قانون بن جائے گا۔

سینیٹ میں بل کی منظوری کے بعد صدر جو بائیڈن کی طرف سے جاری بیان میں کانگریس پر زور دیا گیا کہ اس بل پر ووٹنگ کو اولین ترجیح دی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ 28 سال کی کوششوں کے بعد سینیٹ کے اراکین نے اکٹھے ہوکر اس بل کی منظوری دی ہے کہ جو اسلحے کی بھرمار کے باعث ہونے والے تشدد کی بھی روک تھام کرے گا۔

کانگریس کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کا کہنا ہے کہ اس بل کو ایوان سے جلد از جلد منظور کروایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کل صبح کا پہلا کام قوانین کی کمیٹی کا اجلاس ہوگا، تاکہ اس قانون سازی کو ایوان تک پہنچایا جاسکے۔

اس بل میں اسلحہ خریدنے والے خواہشمند 21 سال سے کم عمر افراد کی شخصیت کی کڑی جانچ پڑتال کی جائے گی اور اسکولوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے پروگرامز کے لیے 15 ارب ڈالرز بھی مختص کیے جائیں گے۔اسی طرح سے امریکی ریاستوں سے ایسے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا بھی کہا جائے گا کہ جن کے تحت خطرہ تصور کیے جانے والے افراد سے اسلحہ واپس لیا جائے گا۔

اس قانون سے ایسے افراد کو بھی اسلحہ خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی کہ جو گھریلو تشدد کے واقعات میں سزا کاٹ چکے ہوں گے اور اس کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ کئی دہائیوں بعد پہلی بار مجوزہ اصلاحات کے لیے ڈیموکریٹس اور ری پبلکن اراکین دونوں کی طرف سے اس کی سپورٹ کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں