عمران خان کیخلاف عائشہ گلالئی دوبارہ منظر عام پر

پی ٹی آئی کی سابق رہنما عائشہ گلالئی نے پارٹی چیئرمین عمران خان کیخلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو ایک خط لکھ دیا ہے۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ عائشہ گلالئی کا شمار تحریک انصاف کی اہم خاتون رہنما کے طور پر کیا جاتا تھا لیکن انہوں نے عمران خان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

2017ء میں انہوں نے اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس کی اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر انتہائی سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت میں کسی خاتون کی عزت محفوظ نہیں ہے۔

عائشہ گلالئی نے الزام لگایا تھا تھا کہ عمران خان ان کو موبائل فون کے ذریعے نازیبا میسجز بھیجتے ہیں۔ اس پریس کانفرنس کا نوٹس لیتے ہوئے عمران خان نے عائشہ گلالئی کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔

عمران خان کی جانب سے عائشہ گلالئی کی پی ٹی آئی رکنیت ختم کرانے کیلئے الیکشن کمیشن سے بھی درخواست کی گئی تھی لیکن اس کو سمترد کر دیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں عائشہ نے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا بھی اعلان کیا تھا۔

اب عائشہ گلالئی کی جانب سے حال ہی میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان پاک فوج سمیت ملک کے اہم قومی اداروں پر الزام لگا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ فوج کو سیاست میں گھسیٹا جائے تاکہ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہو جائے۔

چیف جسٹس کو عائشہ گلالئی نے خط میں لکھا ہے کہ بار بار نیوٹرل کے الفاظ کا استعمال کرکے عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کو دھمکانا شروع کر دیا ہے۔ اس لئے ان کیخلاف فوری از خود نوٹس لے کر غداری کا کیس درج کیا جائے۔

انہوں نے چیف جسٹس سے مزید مطالبہ کرتے ہوئے عمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی بھی درخواست کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں