موبائل فون کا موجد ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال سے تنگ

موبائل فون کے موجد مارٹن کوپر نے اس ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ سب اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھ کر تنگ آ چکے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مارٹن کوپر نے کہا کہ میں حیران ہوتا ہوں کہ لوگ کیسے اپنا وقت برباد کر رہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ موبائل فون پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی زندگی کا بہتر استعمال کریں

The first mobile phone call was made 40 years ago today — Quartz

مارٹن کوپر نے کہا کہ ہم لوگوں کو چاہیے کہ ہم سادگی اپنائیں اور اس سے لطف اندوز ہوں۔ موبائل فون کا زیادہ استعمال ٹھیک نہیں ہے۔

یہ بیان انہوں گذشتہ دنوں بی بی سی کو انٹرویو میں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی زندگی کا استعمال کریں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔

خیال رہے کہ 1973ء میں مارٹن کوپر نے موبائل فون ایجاد کیا تھا۔ وہ ان دنوں موٹرولا کمپنی میں بطور ملازم کام کر رہے تھے۔ لوگ ان دنوں کار فونز کے سحر میں مبتلا تھے لیکن ان فونز کا سائز بہت بڑا تھا۔

کوپر بتاتے ہیں کہ ان کے دماغ میں خیال آیا کہ کوئی ایسا فون ہونا چاہیے جسے کہیں بھی ساتھ لے جانا آسان ہو۔ اور اس کو استعمال کرتے ہوئے کسی کو دقت پیش نہ آئے۔

انہوں نے اپنا آئیڈیا کمپنی مالکان کے سامنے میں رکھا تو وہ اس پراجیکٹ میں رقم لگانے پر راضی ہو گئے۔ یوں مارٹن کوپر نے صرف 3 ماہ کے اندر اندر موبائل فون تیار کرکے دکھا دیا۔

Demographics of Mobile Device Ownership and Adoption in the United States |  Pew Research Center

موٹرولا کمپنی نے اس فون کا نام Motorola DynaTAC 8000X رکھا۔ اس موبائل فون کو ری چارج ہونے میں 10 گھنٹے لگتے تھے۔ جبکہ اس کی بیٹری صرف 25 منٹ ہی چلتی تھئ۔ اس کی لمبائی 25 سینٹی میٹر جبکہ وزن 910 گرام تھا۔

دنیا کے پہلے موبائل فون کی تیاری کے بعد وہ تاریخی لمحہ آیا جسے کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ 3 اپریل 1973ء کو مارٹن کوپر نے ہی سب سے پہلی کال کی۔ فون کے دوسری جانب امریکا کی مشہور کمپنی AT&T سے وابستہ پرنسپل انجینئر جوئل اینجل تھے۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ اگرچہ پہلا موبائل فون تیار کرنے میں صرف 3 ماہ کا وقت لگا تھا لیکن اس کو مارکیٹ میں لانے میں ایک دہائی کا عرصہ لگا تھا۔

1983ء میں پہلی بار عام لوگوں کے لئے موبائل فون دستیاب ہوا تو اس ٹائم اس کی قیمت 3995 ڈالر رکھی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں