نانگا پربت پر پھنسے کوہ پیما شہروز کاشف کا پتہ چل گیا

دنیا کی خطرناک ترین چوٹی نانگا پرپت کو سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران لاپتا ہونے والے پاکستان کے عمر کوہ پیما شہروز کاشف کا پتا چل گیا۔ شہروز اور ان کے ساتھی فضل کیمپ تھری کی طرف جا رہے ہیں۔

اس کی اطلاع شہروز کاشف کے والد نے دی. انہوں‌نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ میرے بیٹے اور اس کے ساتھی کو بچانے کیلئے کوئی ریسکیو آپریشن شروع نہیں‌کیا گیا. دونوں اپنی مدد آپ کے تحت کیمپ تھری پہنچ رہے ہیں.

خیال رہے کہ شہروز کاشف نانگا پربت پر پھنس گئے تھے۔ ان کو بحفاظت وہاں سے نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن کا حکم دیدیا گیا تھا۔ ان کے والد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مدد کی اپیل بھی کی تھی۔

خیال رہے کہ شہروز کاشف کا تعلق لاہور سے ہے۔ ان کی عمر محض ابھی 20 سال ہے لیکن وہ اس کم عمری میں دنیا کی بلند ترین 8 چوٹیوں کو سر کر چکے ہیں۔

شہروز کاشف اور دیگر کوہ پیماؤں سے رابطہ ٹوٹنے کی اطلاع ان کے بیس کیمپ سے ملی جس کے بعد کوہ پیماؤں کی تلاش کے لئے ضروری اقدامات کیے گئے ۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے شہروز کاشف اور ان کے گائیڈ کی بحفاظت واپسی کے لئے فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ گلگت بلتستان کے محکمہ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ خالد خورشید نے محکمہ داخلہ کو آرمی ایوی ایشن سے بھی مدد طلب کرنے کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ شہروز کاشف نے منگل کی صبح نانگا پربت کی چوٹی سر کر لی تھی۔ واپسی کے سفر کے دوران وہ کیمپ فور سے ذرا آگے راستہ بھول جانے کے سبب پھنس گئے ۔

مئی 2022ء میں شہروز دنیا کی 5 بلند ترین چوٹیوں کو 23 دنوں کے اندر سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے تھے۔ وہ واحد پاکستانی کوہ پیما ہیں جنھوں نے صرف 23 دنوں میں 8 ہزار میٹر کی تین چوٹیوں پانچ مئی 2022 کو دنیا کی تیسری بلند ترین کنچن جنگا، 16 مئی 2022ء کو چوتھی بلند ترین لوتسے اور پانچویں بلند ترین مکالو کو سر کیا ۔

اس سے قبل شہروز کاشف نے دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو، ماؤنٹ ایورسٹ، براڈ پیک کے علاوہ مکڑا پیک، موسیٰ کا مصلہ، چمبرا پیک، منگلک سر، گوندوگرو لا پاس خوردوپن پاس اور کوہسار کنج کو بھی سر کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں