مسلم لیگ ن کے رہنما نذیر چوہان گرفتار

لاہور پولیس نے پی پی حلقہ 167 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار نذیر چوہان کو گذشتہ روز ان کے گھر سے گرفتار کر لیا ہے۔

نذیر چوہان کو پی ٹی آئی رہنما خالد گجر کے کیمپ پر حملہ کرنے کے کیس میں حراست میں لیا گیا ہے۔ سی سی پی او لاہور نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نذیر چوہان کو انتخابی ریلی میں فائرنگ کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ نذیر چوہان کو سی آئی اے پولیس نے تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ہونے والے ضمنی الیکشن کیلئے انتخابی مہم کے دوران نذیر چوہان کی جانب سے پی ٹی آئی کے امیدوار شبیر گجر کے کیمپ پر فائرنگ کی گئی تھی، جس سے پی ٹی آئی رہنما شبیر گجر کا بھتیجا اور خالد گجر کا بیٹا زخمی ہو گیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ سابق ایم پی اے نذیر چوھان کو ان کے گھر سے دہشتگردوں کی طرح گرفتار کرنے کی شدید مذمت کرتی ہوں۔ نیازی نے اپنی اوقات دکھا دی، سیاسی انتقام شروع مگر ہم جھکنے والے نہیں ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی اور اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ غلام محمود ڈوگر سی سی پی او اور افضال کوثر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور دونوں نے شاید پرچہ دیکھا نہیں ہے۔ اس میں پی ٹی آئی کے خالد گجر اور ان کے بھائی شبیر گجر ایم پی اے نامزد ہیں۔ کیا ان کی بھی گرفتاری ایسے ہی کی جائے گی؟ نذیر چوہان نے نہ کوئی حملہ کیا نہ پرتشدد احتجاج۔ نوٹ کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ سابق ایم پی اے نذیر چوھان کو ان کے گھر سے ایک دہشت گرد کی طرح گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے وقت کوئی وارنٹ نہیں دکھایا گیا۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ پنجاب حکومت کی ایما پر لاہور پولیس کی بدمعاشی کا آغاز ہو چکا ہے۔ شرم نہ حیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں