انسانی سرجری کیلئے روبوٹ خلائی اسٹیشن میں بھیجنے کی تیاریاں

امریکی خلائی ادارہ ناسا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر سرجری کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا روبوٹ بھیجنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ سرجری کے لیےیہ روبوٹ 2024 میں خلائی اسٹیشن بھیجا جائے گا۔ اس روبوٹ کو یونیورسٹی آف نیبراسکا کے سائنس دانوں کی جانب سے بنایا گیا ہے۔

مِیرا نامی اس روبوٹ کو تجرباتی لاکر میں ترتیب دیا جائے گا اور اس یقین دہانی کیلئے آزمایا جائے گا کہ یہ لانچ میں صحیح سالم رہتا بھی ہے یا نہیں۔

یہ روبوٹ جسم پر لگائے گئے چھوٹے چیروں کے اندر داخل ہو سکتا ہے تاکہ کم سے کم کٹاؤ کے ساتھ پیٹ کا آپریشن کیا جاسکے اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ روبوٹ اپنے استعمال کنندہ سے دور فاصلے پر رہتے ہوئے کام کرسکے۔

مستقبل میں یہ روبوٹ ممکنہ طور پر اس قابل ہوسکتا ہے کہ میڈیکل ایمرجنسیز سے نمٹ سکے جبکہ آپریشن کرنے والے ماہرین ہزاروں میل کے فاصلے پر موجود ہوں۔اس سے پہلے کیے جانے والے تجربے میں روبوٹ نے اپنے استعمال کنندہ سے 900 میل کے فاصلے پر رہتے ہوئے بھی سرجری کی تھی۔

اس آلے کو اس طرح سے پروگرام کیا گیا ہے کہ یہ کام خود کرسکے تاکہ اسپیس اسٹیشن کے بینڈ ورتھ کو بچایا جاسکے اور تجربے میں لگنے والے وقت کو کم بھی کیا جاسکے۔

روبوٹ کے بارے میں یہ بتایا جارہا ہے کہ یہ پچاس سے سو سال تک فعال رہے گا مگر اس روبوٹ کو بنانے کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یہ آلہ کششِ ثقل کے بغیر ماحول میں بھی کام کرسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں