فیصل آباد میں خاتون پر تشدد کرنے والے چھ ملزمان گرفتار

فیصل آباد میں خاتون پر تشدد کا واقعہ، پولیس نے تحقیقات کے بعد مرکزی ملزم سمیت 6 افراد کو گرفتار کرلیا۔

فیصل آباد پولیس کا کہنا ہے گزشتہ روز خاتون پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کارروائی کی گئی جس میں خاتون سمیت چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ۔ پولیس کے مطابق سی پی او فیصل آباد نے اس کیس کی تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم تعینات کی ہے۔ اس افسوسناک واقعہ میں ملوث ملزمان کو کڑی سزا دلوائی جائیگی۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما حنا پرویز بٹ بھی اس دلخراش واقعے پر بول پڑیں، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ فیصل آباد میں خاتون پر تشدد کی ویڈیو دیکھ کر دل ہل گیا۔ تشدد کرنے والے درندوں کی جگہ جیل ہے۔

اس واقعہ پر اجمل جامی نے کہا کہ شیخ انا دختر شیخ دانش اور ماہم ولد نامعلوم، دو خواتین نامزد ہیں۔ دوسری غالباً معاون ہیں اس گھر میں، لیکن وہ فرعونیت بھری آواز والی خاتون کہاں ہے جو اس بچی کو تلوے چاٹنے پر مجبور کر رہی ہے؟

اس واقعے کے بعد ٹوئٹر پر صارفین کا سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ فیصل آباد واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے خدارا اس وڈیو کو سوشل میڈیا پر نہ لگایا جائے دل خون کے آنسو رو رہا ہے .

ٰایک‌اور‌ ٹوئٹر پر صارف نے‌لکھا‌کہ‌وقت کے فرعون گرفتار۔

خیال رہے کہ فیصل آباد میں شادی سے انکار پر لڑکی کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیاگیا تھا لڑکی پر تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آگئی تھی کہ جس میں اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتےہوئے دیکھا جا سکتا تھا، لڑکی کے سر کے بال اور بھنویں کاٹنے کے بعد اس کو جوتے چاٹنے پر بھی مجبور کیا گیا تھا۔

پولیس نے ویڈیو سامنے آنے کے بعد لڑکی پر تشدد کا مقدمہ درج کرلیا تھا۔متاثرہ لڑکی کے مطابق اس کی ایک سہیلی کا باپ اس کو شادی پر زوردے رہا تھا، لڑکی کے انکار پر اس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

لڑکی کا کہنا ہےکہ اس کی سہیلی کا باپ شادی پر زوردے رہا تھا، انکار پر تشدد کیا، سرکے بال،بھنویں کاٹ دیں اور جوتے چاٹنے پر مجبورکیا۔ لڑکی کے بیان کے مطابق جنسی ہراساں بھی کیا گیا تھا اور ویڈیوز بھی بنائی گئیں تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں