”شریف،زرداری کو ارب پتی بنانے کیلئے پاکستان نہیں بنا“

اسلام آباد(پبلک نیوز) اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وزیرا عظم عمران خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپنے اتحادیوں کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، مشکل وقت میں اتحادیوں نے میرا ساتھ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے آزماتا ہے، بڑا انسان بننے کے لیے مشکل وقت کا سامنا کرنا ضروری ہے، ہمارا ذہن سب سے بڑا پاور ہاؤس ہے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ذہن کو جتنا آزمائیں گے وہ اور تگڑا ہو جاتا ہے، ایم این ایز کا پتہ ہے اتنی کوشش کی یہاں پہنچنے کے لیے،پاکستان کیوں بنا، ہمیں کبھی بھولنا نہیں چاہیے، قوم اپنے نظریے سے پیچھے ہٹ جائے تو مر جاتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بنانے کا بڑا عظیم خواب تھا، ہم نے دنیا کو مثال دینی تھی، مثال دینی تھی کہ اسلامی ریاست کیا ہوتی ہے، مدینہ کی ریاست دنیا کی پہلی فلاحی ریاست بنی تھی۔ شفقت محمود کو کہا طلبا کو مدینہ کی ریاست بارے پڑھائیں۔

وزیر اعظم نے کہا ایک تباہی کا راستہ اور دوسرا عظمت کا راستہ ہے، جس طریقے سے سینیٹ الیکشن ہوا شرمندگی ہوتی ہے، حیرت ہوئی لوگوں کوخریدنے کے لیے منڈی لگی ہوئی ہے، ہم کہتے ہیں ہمارے معاشی حالات بہت برے ہیں، قرضے چڑھے ہوئے ہیں، اصل میں بیماری کچھ اور ہے،میں نے اس عمرمیں ساری دنیا دیکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  آصف  زرداری دنیا کا کرپٹ آدمی ہے، آصف زرداری مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے مشہور ہیں اس پر فلمیں بنی ہوئی ہیں، دوسری طرف کہتے ہیں ہمارا لیڈر نوازشریف ہے، نوازشریف ڈاکو، جھوٹ بول کر بھاگا ہوا ہے، ہمیں کہا گیا نوازشریف جہاز پر نہیں چڑھ سکے گا، مشرف نے ان کو این آر او دے کر غلطی کی، دونوں نے ملک پر 4 گنا قرضہ بڑھا دیا، میں ڈھائی سال سے تماشے دیکھ رہا ہوں، ایوان میں وزیراعظم کو تقریر کرنے نہیں دی جاتی، ان پر کرپشن کے کیسز ہم نے نہیں بنائے، کیا یہ آپ کے باپ کا پیسا تھا؟ یہ قوم کا پیسا تھا۔

وزیراعظم کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ میں ان کو 30 سال سے جانتا ہوں، مہنگائی تو بڑھی ہے، لوگوں کا تنخواہوں سے گزارا نہیں ہوتا، ان کو نہیں معلوم ان کے پاس کتنا پیسا ہے، یہ چاہتے ہیں مل کرعمران خان پر پریشر ڈالو، پاکستان بلیک لسٹ میں جائے تو پابندیاں لگ جائیں گی، پابندیاں لگ جائیں تو سوچ نہیں سکتے، ملک کا کیا حال ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے نیب  ختم کرنے کا کہا، نیب اورفیٹف کا کیا تعلق ہے، میں نے کہا ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے، انہوں نے جلسے کرنے کی کوشش کی، ایک شہزادہ اور شہزادی آ گئے، جن کو پتہ نہیں جدوجہد کیا ہوتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا فضل الرحمان ہمیشہ سے دو نمبر آدمی ہے، ان کے ساتھ لاہورمیں وہی ہوا جو مینارپاکستان پر ہوا، دونوں پارٹیوں نے چارٹرآف ڈیموکریسی کیا، چارٹرآف ڈیموکریسی میں اوپن بیلٹ کا لکھا ہے، دونوں پارٹیاں چارٹرآف ڈیموکریسی سے بھاگ گئیں، یہ لوگوں کو رشوت کے لیے راتوں کو کالز کرتے رہے، ڈھائی سال کی جدوجہد زندگی کی بڑی  مشکل جدوجہد تھی، اپوزیشن نے اداروں کو تباہ کر دیا، ملک کا سب سے بڑا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا، روپیہ گرے توغربت بڑھ جاتی ہے، سینیٹ الیکشن سے ایک دن پہلے ارکان اسمبلی کوفون آئے، اراکین کو بتایا گیا ریٹ 2 کروڑ سے شروع ہو رہا اور بھی دیں گے۔ حفیظ شیخ کو جان بوجھ  کر ہرایا گیا، یہ سارے طریقے تھے منی لانڈرنگ کر کے پیسہ باہر لے جانا کے، میں پوچھتا ہوں کہ کیا ان کی دولت ایمانداری سے بڑھی ہے۔

وزیراعظم نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا تین دفعہ کے وزیراعظم کےب یٹے لندن بیٹھے ہیں، ان کے بیٹے کہتے ہیں ہم پاکستانی شہری نہیں ہیں۔ حکومت عدلیہ اور نیب کی مدد کرے گی، سزا اور جزا کا نظام بہت ضروری ہے، کرپٹ آدمی کا حال ایسا ہو وہ معاشرے میں منہ نہ دکھا سکے، اگر ملک بچانا ہے تو اخلاقی معیارٹھیک کرنا پڑے گا، میرے ساری پارٹی مجھے چھوڑ دے تو اکیلا لڑتا رہوں گا،  مشکل وقت سے نکل کر ترقی کے راستے پر آگئے، اگلا چیلنج ہے کہ ایکسپورٹ بڑھانی ہیں، اب ہم سرمایہ کاری پرلگے ہوئے ہیں، مہنگائی بڑامسئلہ ہے، مہنگائی کم کرنے پر کام کر رہےہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لی 342 کے ایوان میں سے 172 ووٹ درکار تھے جبکہ انہوں نے 178 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اسپیکر کے اعلان کے بعد قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی ارکان نے وزیراعظم کے حق میں نعرے بازی کی اور ڈیسک بجائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں