لاہور: سوئمنگ پول سے ملنے والی بچی کی لاش کا معمہ حل

لاہور کے علاقے مناواں میں سوئمنگ پول سے ملنے والی بچی کی لاش کا معمہ حل ہو گیا ہے۔ پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

بچی کے قتل کا مقدمہ گذشتہ ماہ 27 اگست کو درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں 154 ضابطہ فوجداری کے دفعات شامل کی گئی تھیں۔ پولیس کے مطابق بچی اپنے بھائی اور بہن کے ساتھ سوئمنگ پول میں آئی تھی۔ ملزم بچی کو بسکٹ کا لالچ دے کر کینٹین کے عقب میں لے گیا تھا۔ مقتول بچی کے دیگر بہن بھائی نے ملزم علی رضا سے کافی دیر تک بہن سے متعلق پوچھتے رہے، تاہم ملزم نے بچوں کو یہ کہا کہ ان کی بہن گھر چلی گئی ہے۔

سی سی پی او غلام محمد ڈوگر نے میڈٰیا کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی اس کیس کو فوری حل کرنے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس موقع پر انہوں نے ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ہائی پروفائل کیسز حل کرنے پر ڈی آئی جی انوسٹی گیشن اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ ہمارے لیے انتہائی چیلنجنگ کیس تھا، ہم نے اصل ملزم کو بروقت گرفتار کر لیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مضبوط چالان مرتب کرکے ملزم کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ سی آئی اے اور انویسٹی گیشن پولیس کی مشترکہ ٹیموں نے شب و روز کی محنت کے بعد ملزم کو گرفتار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بچی کے قتل کے شک پر قانون نافذ کرنے والے حکام نے 11مشکوک افراد کے ڈی این اے اور پولی گراف ٹیسٹ کرائے تھے۔ مقتولہ بچی اور ملزم علی رضا کے نمونے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوائے گئے تھے۔

سی سی پی او نے میڈیا کو کیس میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم علی رضا نے بچی کو زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا۔ ملزم نے چالاکی سے قتل کو حادثے کا رنگ دینے کیلئے لاش کو سوئمنگ پول میں پھینکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں